چھتیس گڑھ کے ضلع بلرام پور سے انسانیت کو شرما دینے والی ایک دل دہلا دینے والی خبر سامنے آئی ہے۔ رام چندر پور بلاک کے گاؤں پلگی واقع پرائمری اسکول جاوا کھاڑی میں 7 سالہ معصوم بچے کو اُس کے ہی ٹیچر نے وحشیانہ طریقے سے ماراپیٹ۔ یہ واقعہ جمعہ کے روز پیش آیا، جس کے بعد پورے علاقے میں شدید غم و غصہ پھیل گیا اور لوگ انصاف کے لیے سڑکوں پر آنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
اطلاعات کے مطابق لنچ کے بعد ریاضی کی کلاس لینے پہنچے استاد اُدای یادو نے طالب علم بھاگی رتھی سے گنتی سنانے کو کہا۔ بچے سے معمولی سی غلطی ہوگئی، جس پر استاد سخت غصے میں آگئے اور ہتھے سے اُکھڑ گئے۔ انہوں نے معصوم طالب علم کو مسلسل تھپڑ مارنے شروع کر دیے۔ مارپیٹ اس قدر شدید تھی کہ بچے کی آنکھ کے اندرخون کا لوتھڑا جم گیا اور چہرہ بری طرح سوج گیا۔ خوف کے مارے بچہ زمین کی طرف دیکھنے لگا، مگر ٹیچر کا غصہ کم نہ ہوا اور وہ مارتے رہے۔
والدین کی شکایت
بچے کے گھر پہنچتے ہی اس نے روتے ہوئے اپنے ماں باپ کو واقعہ کی پوری تفصیل بتائی۔ والد دھننجے یادو نے فوراً تریکونڈا تھانے میں ٹیچر کے خلاف تحریری شکایت درج کرائی۔ والدین کا الزام ہے کہ ٹیچراکثرشراب پی کراسکول آتے ہیں اور واقعہ والے دن بھی نشے میں تھے۔
علاقے میں غم و غصہ اور سخت کارروائی کا مطالبہ
واقعہ کے بعد گاؤں میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ استاد کی یہ حرکت ناقابلِ برداشت ہے اور ایسے ٹیچربچوں کے مستقبل کو تباہ کر دیتے ہیں۔ لوگوں کا مطالبہ ہے کہ ملزم کے خلاف فوری طور پر سخت قانونی کارروائی کی جائے اور اسے معطل یا برطرف کیا جائے۔ والدین اورعام شہریوں نے بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اسکول انتظامیہ کی بھی سخت جانچ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
طبی حالت اور پولیس کی کارروائی
ڈاکٹروں کے مطابق بچہ اس وقت شدید چوٹوں کے باعث زیرِ نگرانی ہے۔ آنکھ اور چہرے کی سوجن خطرناک نوعیت کی ہے اور مکمل صحت یابی میں وقت لگ سکتا ہے۔ پولیس نے ٹیچرکے خلاف مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ عوامی دباؤ کے بعد مقامی انتظامیہ بھی حرکت میں آگئی ہے اوراسکول کے ماحول اوراسٹاف کی کارکردگی کا جائزہ لینے کی بات کہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



