Bharat Express DD Free Dish

Supreme Court Hearing: سلیپر بس میں نابالغ سے اجتماعی زیادتی اور ڈے کیئر میں معصوم سے جنسی زیادتی معاملے میں سپریم کورٹ 5 اکتوبر کو کرے گی سماعت

دہلی-این سی آر میں خواتین اور بچوں کی سلامتی سے متعلق دو سنگین معاملات پر چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی سربراہی میں خصوصی بنچ سماعت کرے گی، سلیپر بس میں 16 سالہ طالبہ سے اجتماعی زیادتی اور موج پور کے پلے اسکول میں 3 سالہ بچے کے مبینہ جنسی استحصال کے معاملے میں اسٹیٹس رپورٹ طلب کیے جانے کا امکان

نئی دہلی: دہلی-این سی آر میں خواتین اور بچوں کی سلامتی سے متعلق دو سنگین معاملات پر سپریم کورٹ 5 اکتوبر کو سماعت کرے گی۔ ان میں چلتی سلیپر بس میں 16 سالہ طالبہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی اور موج پور کے ایک ڈے کیئر/پلے اسکول میں 3 سالہ معصوم بچے کے مبینہ جنسی استحصال کا معاملہ شامل ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل خصوصی بنچ اس معاملے میں دائر لیٹر پٹیشن پر سماعت کرے گی۔

آر جے ڈی رکن پارلیمنٹ نے چیف جسٹس کو بھیجا تھا خط

یہ لیٹر پٹیشن راشٹریہ جنتا دل (RJD) کے رکن پارلیمنٹ سدھاکر سنگھ نے اپنے وکیل ستیم سنگھ راجپوت کے ذریعے سپریم کورٹ کو بھیجی تھی۔ خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عدالت عظمیٰ دہلی حکومت، اتر پردیش حکومت، دہلی پولیس اور یوپی پولیس سمیت تمام متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرے اور اب تک کی تحقیقات پر تفصیلی اسٹیٹس رپورٹ طلب کرے۔ رپورٹ کے مطابق سلیپر بس کے معاملے میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے بس ڈرائیور اور کنڈکٹر کو گرفتار کرلیا ہے، جبکہ واردات میں استعمال ہونے والی سلیپر بس بھی ضبط کرلی گئی ہے۔

’نربھیا کیس کی دردناک یادیں تازہ ہوگئیں‘

اس سے قبل اس واقعے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے جسٹس جے بی پردی والا کی سربراہی والی بنچ نے سخت تبصرے کیے تھے۔ عدالت نے چلتی بس میں پیش آنے والے اس واقعے کا موازنہ 2012 کے نربھیا کیس سے کرتے ہوئے کہا تھا کہ چلتی بس میں اس طرح کا جرم انتظامیہ اور قانون و انتظام کی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ عوامی مقامات پر محض موم بتیاں جلانا یا یکجہتی کا اظہار کرنا کافی نہیں، بلکہ حکام کی جواب دہی بھی یقینی بنائی جانی چاہیے۔

عوامی مقامات کی سلامتی اور انتظامی لاپروائی پر تشویش

سپریم کورٹ نے عوامی مقامات کی سلامتی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ناکافی روشنی، کمزور پولیس گشت اور خراب CCTV نگرانی کے باعث بسیں، پارک اور سڑکیں جرائم کے لیے غیر محفوظ مقامات بنتی جا رہی ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ انتظامی لاپروائی کے باعث عوامی مقامات کو غیر محفوظ نہیں ہونے دیا جاسکتا۔ اب 5 اکتوبر کو ہونے والی سماعت میں عدالت ان دونوں معاملات میں تحقیقات اور حفاظتی اقدامات سے متعلق حکام سے تفصیلی معلومات طلب کرسکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read