Bharat Express DD Free Dish

Legal News

یہ ضمانت ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی جانب سے پیروی کے بعد ملی ہے۔ جسٹس نوین چاولہ اور جسٹس ارون بھاردواج پر مشتمل دہلی ہائی کورٹ کی ڈویژن بینچ نے یکم اکتوبر 2026 کو محمد شہزاد کمال بنام این آئی اے کے درمیان مقدمے میں فیصلہ سنایا۔

دہلی-این سی آر میں خواتین اور بچوں کی سلامتی سے متعلق دو سنگین معاملات پر چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی سربراہی میں خصوصی بنچ سماعت کرے گی، سلیپر بس میں 16 سالہ طالبہ سے اجتماعی زیادتی اور موج پور کے پلے اسکول میں 3 سالہ بچے کے مبینہ جنسی استحصال کے معاملے میں اسٹیٹس رپورٹ طلب کیے جانے کا امکان

جسٹس پرتبھا ایم سنگھ اور جسٹس دنیش بھٹ کی بنچ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے 5 جنوری کے حکم میں عائد شرائط میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی، دونوں پر فروری 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات کی مبینہ بڑی سازش میں ملوث ہونے کا الزام۔

اسٹینڈ اَپ کامیڈین کنال کامرا نے سپریم کورٹ کی 7 رکنی آئینی بنچ کے سامنے درخواست دائر کرکے اپنا موقف رکھنے کی مانگی اجازت، سماعت 6 اکتوبر کو۔

اب ملزم کو گرفتاری کی وجہ تحریری طور پر بتانا لازمی، خلاف ورزی پر پولیس افسر کے خلاف محکمانہ کارروائی، غیر قانونی گرفتاری کے بعد دوبارہ گرفتاری کے لیے مجسٹریٹ سے اجازت ضروری۔

سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس بھوشن رام کرشن گوئی نے کہا کہ محض سیاسی آزادی کافی نہیں، جب تک ہر شہری کو خوراک، تعلیم، صحت، روزگار اور باعزت زندگی کی بنیادی سہولتیں حاصل نہ ہوں، انسانی حقوق کا حقیقی فائدہ محدود رہے گا-

سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے سپریم کورٹ سے آرٹیکل 142 کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے درج ایف آئی آر منسوخ کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ فریقین کے درمیان سمجھوتے کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایف آئی آر منسوخ کرنے کے لیے درخواست دائر کی جا رہی ہے۔ اس پر چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ اگر فریقین آپس میں سمجھوتہ کر رہے ہیں تو عدالت کو اس میں کوئی دشواری نہیں ہے۔

پاسپورٹ ایکٹ کی دفعہ 15 کے تحت سابق اے سی پی کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر (LG) نے باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ ایل جی کی منظوری کے بعد عدالت نے معاملے کا نوٹس لیا۔ اب عدالت نے ونود کمار پانڈے کے خلاف باضابطہ الزامات طے کرنے کے لیے 24 اکتوبر 2026 کی تاریخ مقرر کی ہے۔

ممبئی ناکا پولیس اسٹیشن میں درج مقدمے میں عدالت نے ندا خان کو 50 ہزار روپے کے بانڈ پر ضمانت دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہیں باقاعدگی سے پولیس اسٹیشن میں حاضری لگانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ مقدمے کی تفتیش کے دوران ندا خان کو وقتاً فوقتاً پولیس کے سامنے پیش ہونا ہوگا۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ پولیس کی مبینہ زیادتیوں کی تحقیقات کے لیے پولیس افسران پر مشتمل خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) یا کسی ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دینے پر غور کر رہی ہے۔ عدالت نے اس معاملے کی اگلی سماعت 18 اگست مقرر کر دی ہے۔