Bharat Express DD Free Dish

Legal News

اب ملزم کو گرفتاری کی وجہ تحریری طور پر بتانا لازمی، خلاف ورزی پر پولیس افسر کے خلاف محکمانہ کارروائی، غیر قانونی گرفتاری کے بعد دوبارہ گرفتاری کے لیے مجسٹریٹ سے اجازت ضروری۔

سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس بھوشن رام کرشن گوئی نے کہا کہ محض سیاسی آزادی کافی نہیں، جب تک ہر شہری کو خوراک، تعلیم، صحت، روزگار اور باعزت زندگی کی بنیادی سہولتیں حاصل نہ ہوں، انسانی حقوق کا حقیقی فائدہ محدود رہے گا-

سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے سپریم کورٹ سے آرٹیکل 142 کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے درج ایف آئی آر منسوخ کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ فریقین کے درمیان سمجھوتے کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایف آئی آر منسوخ کرنے کے لیے درخواست دائر کی جا رہی ہے۔ اس پر چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ اگر فریقین آپس میں سمجھوتہ کر رہے ہیں تو عدالت کو اس میں کوئی دشواری نہیں ہے۔

پاسپورٹ ایکٹ کی دفعہ 15 کے تحت سابق اے سی پی کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر (LG) نے باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ ایل جی کی منظوری کے بعد عدالت نے معاملے کا نوٹس لیا۔ اب عدالت نے ونود کمار پانڈے کے خلاف باضابطہ الزامات طے کرنے کے لیے 24 اکتوبر 2026 کی تاریخ مقرر کی ہے۔

ممبئی ناکا پولیس اسٹیشن میں درج مقدمے میں عدالت نے ندا خان کو 50 ہزار روپے کے بانڈ پر ضمانت دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہیں باقاعدگی سے پولیس اسٹیشن میں حاضری لگانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ مقدمے کی تفتیش کے دوران ندا خان کو وقتاً فوقتاً پولیس کے سامنے پیش ہونا ہوگا۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ پولیس کی مبینہ زیادتیوں کی تحقیقات کے لیے پولیس افسران پر مشتمل خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) یا کسی ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دینے پر غور کر رہی ہے۔ عدالت نے اس معاملے کی اگلی سماعت 18 اگست مقرر کر دی ہے۔

بمبئی ہائی کورٹ میں دائر گڈکری کے مقدمے کے مطابق، متنازع سوشل میڈیا مواد میں پوسٹس، ڈیپ فیک تصاویر اور ویڈیوز سمیت دیگر مواد شامل ہے، جن کے ذریعے مبینہ طور پر انہیں اور ان کے اہل خانہ کو E20 ایتھنول بلینڈنگ پروگرام سے حاصل ہونے والے منافع سے جوڑا گیا ہے۔

سپریم کورٹ نے فوری راحت دینے سے انکار کیا کرتے ہوئے عرضی گزار کو دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت دی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر ایسے الزامات سے عدالتی افسر کا پورا کیریئر داؤ پر لگ جاتا ہے۔ گلشن پاہوجا کو دہلی ہائی کورٹ نے مجرمانہ توہین عدالت کا قصوروار قرار دیتے ہوئے 6 ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔

سپریم کورٹ نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کامیڈین سمے رینا سمیت شو میں شریک دیگر کامیڈینز اور مہمانوں پر تین، تین لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے اور دو ہفتوں میں رقم جمع کرانے کی ہدایت بھی دی ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ سمے رینا نے کورٹ کو گمراہ کرنے کی کوشش کی اور اس کے سامنے غلط بیانات پیش کیے۔

عدالت نے نچلی عدالت کے فیصلے میں مداخلت سے انکار کر دیا ہے اور تین ماہ قید اور مجموعی طور پر 7.35 کروڑ روپے جرمانے کو برقرار رکھا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے اداکار کو سپریم کورٹ سے رجوع کے لیے دو ماہ کی مہلت بھی دی ہے۔