نئی دہلی: جنتر منتر پر ہونے والے مظاہرے سے متعلق درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کی درخواست لے کر مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ مرکز نے عدالت عظمیٰ سے آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت حاصل خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ان ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کی درخواست کی ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیا باغچی اور جسٹس وی. موہنا پر مشتمل بنچ اس معاملے سے متعلق دائر مختلف عرضیوں پر سماعت کر رہی ہے۔ عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت یکم ستمبر کو مقرر کی ہے۔ سماعت کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس سلسلے میں ایک درخواست دائر کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ معاملے کو اگلے روز سماعت کے لیے فہرست میں شامل کیا جائے۔
فریقین کے درمیان سمجھوتے کی بنیاد پر ایف آئی آر منسوخ کرنے کی درخواست
سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے سپریم کورٹ سے آرٹیکل 142 کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے درج ایف آئی آر منسوخ کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ فریقین کے درمیان سمجھوتے کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایف آئی آر منسوخ کرنے کے لیے درخواست دائر کی جا رہی ہے۔ اس پر چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ اگر فریقین آپس میں سمجھوتہ کر رہے ہیں تو عدالت کو اس میں کوئی دشواری نہیں ہے۔ واضح رہے کہ سی جے پی نے اس معاملے کے سلسلے میں 5 ستمبر کو مظاہرے کا اعلان کیا ہے۔ اس مظاہرے پر روک لگانے کی درخواست بھی سپریم کورٹ میں کی گئی تھی، تاہم عدالت نے اس پر روک لگانے سے انکار کر دیا تھا۔
صرف طلبہ کے خلاف درج ایف آئی آر پر عدالت کا اہم اشارہ
گزشتہ سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے اشارہ دیا تھا کہ جن ایف آئی آر میں صرف طلبہ کو ملزم بنایا گیا ہے، انہیں سپریم کورٹ آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت منسوخ کر سکتی ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں 20 جولائی کو دہلی میں پارلیمنٹ مارچ کے دوران ہونے والے تشدد کی ویڈیو فوٹیج اور سی سی ٹی وی ریکارڈنگ بھی جانچ کے لیے ایک ہائی پاور کمیٹی کے حوالے کرنے کی ہدایت دی تھی۔ سماعت کے دوران عرضی گزار کی جانب سے پیش ہونے والی سینئر وکیل ورندا گروور نے عدالت کو بتایا تھا کہ گزشتہ سماعت میں ملک بھر میں طلبہ اور نوجوان مظاہرین کے خلاف درج متعدد ایف آئی آر کا معاملہ اٹھایا گیا تھا۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے آرٹیکل 142 کے تحت طلبہ کے خلاف ملک بھر میں درج ایف آئی آر منسوخ کرنے کی درخواست کی تھی۔
سنگین جرائم میں ملوث افراد کو طلبہ سے الگ رکھنے کی دلیل
اس پر سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا تھا کہ انہیں طلبہ کے خلاف درج ایف آئی آر منسوخ کیے جانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ مظاہرین کے خلاف درج ایف آئی آر منسوخ ہونی چاہئیں، تاہم یہ کس طریقے سے کیا جائے، اس کا فیصلہ عدالت کرے۔ تاہم ایس جی مہتا نے واضح کیا تھا کہ مظاہرے میں کچھ ایسے افراد بھی شامل ہو گئے تھے جن کا سنگین مجرمانہ پس منظر ہے۔ ایسے معاملات کی تفتیش ضروری ہے اور ان افراد کو نیٹ یا دیگر مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ کے برابر نہیں رکھا جا سکتا۔ انہوں نے سنگین جرائم کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان میں عصمت دری، قتل، پوکسو اور اغوا جیسے مقدمات شامل ہیں، نہ کہ معمولی نوعیت کے جرائم۔ چیف جسٹس سوریہ کانت نے ریاستی حکومتوں سے کہا تھا کہ وہ ایسی ایف آئی آر کی فہرست پیش کریں جن میں صرف طلبہ کو ملزم بنایا گیا ہے۔ عدالت اب اسی معاملے میں یکم ستمبر کو مزید سماعت کرے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




