مشہور اسٹینڈ اَپ کامیڈین کنال کامرا نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے ایک مداخلتی درخواست دائر کی ہے۔ کامرا نے اظہارِ رائے کی آزادی اور قانون ساز اداروں کے خصوصی حقوق کے درمیان تعلق سے متعلق اہم معاملے میں اپنی دلیل پیش کرنے کی اجازت طلب کی ہے۔ یہ معاملہ اس وقت سپریم کورٹ کی 7 رکنی آئینی بنچ کے سامنے زیرِ سماعت ہے، جس پر 6 اکتوبر کو سماعت مقرر ہے۔ اپنی درخواست میں کنال کامرا نے دلیل دی ہے کہ آئین کے آرٹیکل 194(3) کے تحت قانون ساز اداروں کو حاصل خصوصی حقوق اور آرٹیکل 19(1)(a) کے تحت شہریوں کو حاصل اظہارِ رائے کی آزادی کے درمیان توازن کا سوال ان کے خلاف مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں جاری مراعات شکنی کی کارروائی سے براہِ راست متعلق ہے۔ اسی بنیاد پر انہوں نے 7 رکنی بنچ کے سامنے اپنا موقف رکھنے کی اجازت مانگی ہے۔
’خصوصی حقوق کے ذریعے بنیادی حقوق محدود نہیں کیے جا سکتے‘
کنال کامرا نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کو یہ طے کرنا ہوگا کہ قانون ساز اداروں کے خصوصی حقوق کا استعمال کس حد تک کیا جا سکتا ہے اور کیا ان اختیارات کے ذریعے کسی شہری کی آزادیِ اظہار کو محدود کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ شہریوں کی آواز دبانے کے لیے خصوصی حقوق کا استعمال جمہوری نظام کی بنیاد کو کمزور کرتا ہے۔ ان کے مطابق ایسے اختیارات کا استعمال شہریوں کے بنیادی حقوق کو ختم کرنے یا محدود کرنے کے لیے نہیں کیا جا سکتا۔
سیاسی طنز سے شروع ہوا تنازع
یہ پورا معاملہ کنال کامرا کے ایک شو سے متعلق ہے، جس میں انہوں نے 2022 میں شیوسینا میں ہونے والی تقسیم، ادھو ٹھاکرے کے استعفے اور ایکناتھ شندے کی قیادت میں بننے والی نئی حکومت پر طنز کیا تھا۔ الزام ہے کہ کامرا نے ایک پیروڈی گیت میں ایکناتھ شندے کے لیے ’غدار‘ کا لفظ استعمال کیا تھا۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد رکن اسمبلی مرجی کانجی پٹیل کی شکایت پر کھار پولیس اسٹیشن میں بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔
بامبے ہائی کورٹ سے بھی ملی تھی عبوری راحت
اس معاملے میں بامبے ہائی کورٹ نے 25 اپریل 2025 کو کامرا کو درخواست زیرِ التوا رہنے تک گرفتاری سے عبوری راحت دی تھی۔ کنال کامرا نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ اس معاملے میں اب تک چارج شیٹ داخل نہیں کی گئی ہے اور کیس بامبے ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔ اب انہوں نے سپریم کورٹ کی 7 رکنی آئینی بنچ کے سامنے مداخلتی درخواست دائر کرکے اظہارِ رائے کی آزادی اور قانون ساز خصوصی حقوق کے باہمی دائرۂ کار پر اپنا موقف رکھنے کی اجازت مانگی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



