Kunal Kamra: کنال کامرا پہنچے سپریم کورٹ، اظہارِ رائے کی آزادی اور قانون سازوں کے خصوصی حقوق کے معاملے میں مداخلتی درخواست دائر
اسٹینڈ اَپ کامیڈین کنال کامرا نے سپریم کورٹ کی 7 رکنی آئینی بنچ کے سامنے درخواست دائر کرکے اپنا موقف رکھنے کی مانگی اجازت، سماعت 6 اکتوبر کو۔
Taslima Nasreen in Kolkata: ’’اظہارِ رائے کی آزادی پر یقین رکھتی ہے موجودہ بھارتی حکومت‘‘ کولکاتا واپسی پر جلاوطن بنگلہ دیشی مصنفہ تسلیمہ نسرین نے کیا کہا ؟
تقریباً دو دہائیوں بعد کولکاتا پہنچنے پر تسلیمہ نسرین کا بیان۔ موجودہ حکومت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایک حکومت نے شہر چھوڑنے پر مجبور کیا، دوسری نے آنے نہیں دیا اور ان کا خیرمقدم کیا۔
Amnesty International Accuses Pakistan: ایمنسٹی انٹرنیشنل کا پاکستان پر کارکنوں اور صحافیوں کی آواز دبانے کے لیے انتظامی حراست کے استعمال کا الزام
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انتظامی حراست کے اختیارات کے مبینہ بڑھتے ہوئے استعمال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے پاکستانی حکام سے تینوں افراد کو فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ تنظیم نے یہ بھی کہا کہ حکومت ایسے قوانین کا استعمال ان افراد کے خلاف بند کرے جو اظہارِ رائے کی آزادی، پُرامن اجتماع اور شخصی آزادی جیسے اپنے بنیادی حقوق استعمال کر رہے ہیں۔
Faceless Trial: ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی عمر قید پر انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش، فریبہ بلوچ نے مقدمے کو بتایا غیر منصفانہ
فریبہ بلوچ نے فیصلے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انسانی وقار اور انصاف کے لیے آواز بلند کرنے والی ایک عالمی سطح کی کارکن کو عمر قید کی سزا سنایا جانا تشویشناک ہے۔
25 books based on anti-state narrative ban in J&K: جموں و کشمیر انتظامیہ نے ریاست مخالف بیانیے پر مبنی 25 کتابوں کو ضبط کرنے کا دیا حکم، جانئے اروندھتی رائے کے علاوہ اور کس پر لگی پابندی
حکومت کا موقف ہے کہ ایسی تحریریں نہ صرف قانون و امن اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں بلکہ نوجوانوں کے ذہنوں پر منفی اثرات ڈال کر معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ اسی بنا پر ان کتابوں کی اشاعت اور پھیلاؤ پر روک لگانا ضروری ہے۔
Bombay High Court: آپریشن سندور کے تعلق سے تنقیدی پوسٹ کرنے والی طالبہ کو ضمانت دیتے ہوئے بمبئی ہائی کورٹ نے حکومت اور پولیس پر کی سخت تنقید، جانیے کیا ہے پورا معاملہ
بمبئی ہائی کورٹ نے منگل کو انجینئرنگ کی ایک 19 سالہ طالبہ کو ضمانت دیتے ہوئے مہاراشٹر حکومت پر سخت نکتہ چینی کی۔
Developed India are a deceptive slogan: اظہار رائے کی آزادی، معاشی و سماجی ناانصافی کے ساتھ ترقی یافتہ ہندوستان کی بات ایک پُرفریب نعرہ
جے رام رمیش نے نیتی آیوگ کی میٹنگ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب اظہار رائے کی آزادی، اداروں کی خودمختاری اور سماجی ہم آہنگی پر حملے ہو رہے ہوں تو ترقی یافتہ ہندوستان کیسا؟





