جموں و کشمیر حکومت نے 25 ایسی کتابوں کو ضبط کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں جن پر الزام ہے کہ وہ ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیتی ہیں اور نوجوانوں کو تشدد، علیحدگی پسندی اور دہشت گردی کی جانب اکسانے کا ذریعہ بن رہی ہیں۔ یہ حکم ریاست کے محکمہ داخلہ کی جانب سے 5 اگست 2025 کو جاری کیا گیا، جو فی الوقت لیفٹیننٹ گورنر کے ماتحت ہے۔
ادب، تاریخ اور سیاست کے معروف مصنفین نشانے پر
ضبط کی گئی کتابوں کے مصنفین میں کئی ممتاز ادیب، مؤرخ، صحافی اور سماجی کارکن شامل ہیں جن میں اروندھتی رائے، سمنترا بوس، اے جی نورانی، وکٹوریہ شوفیلڈ، انورادھا بھسین، ڈیوڈ دیوداس اور حفصہ کنجوال کے نام شامل ہیں۔ ان میں سے کئی مصنفین کی کتابیں بین الاقوامی یونیورسٹیوں جیسے کیمبرج، اسٹینفورڈ یونیورسٹی پریس اور راؤٹلیج سے شائع ہو چکی ہیں۔
نوٹیفکیشن میں ریاستی سلامتی کو درپیش خطرات کا حوالہ
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات اور قابل اعتبار خفیہ معلومات کی بنیاد پر واضح اشارے ملے ہیں کہ نوجوانوں کے درمیان پرتشدد رویوں اور دہشت گردی کی طرف جھکاؤ کی ایک بڑی وجہ ریاست مخالف اور علیحدگی پسند لٹریچر کی منظم اشاعت اور اس کا پھیلاؤ ہے، جو تاریخی و سیاسی تجزیے کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔ نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ لٹریچر نوجوانوں میں مظلومیت اور بغاوت کو فروغ دیتا ہے، ریاستی اداروں کو بدنام کرتا ہے اور دہشت گرد عناصر کو ہیرو کے طور پر پیش کرتا ہے، جس سے انتہا پسندی کو جواز ملتا ہے۔
کتب کی اشاعت پر پابندی کو قومی سلامتی سے جوڑا گیا
حکومت کا موقف ہے کہ ایسی تحریریں نہ صرف قانون و امن اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں بلکہ نوجوانوں کے ذہنوں پر منفی اثرات ڈال کر معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ اسی بنا پر ان کتابوں کی اشاعت اور پھیلاؤ پر روک لگانا ضروری ہے۔
ریاست میں اظہار رائے کی آزادی پر نئی بحث
حکومت کے اس اقدام پر انسانی حقوق، اظہار رائے کی آزادی اور علمی خود مختاری کے حوالے سے نئی بحث چھڑنے کا امکان ہے، کیونکہ ان میں وہ کتابیں بھی شامل ہیں جو بین الاقوامی سطح پر تحقیقی حوالوں کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔ حکومت نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ایسے مواد پر مزید کارروائی کرے گی جو نوجوانوں کو شدت پسندی کی طرف مائل کرتا ہو۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

