Bharat Express DD Free Dish

Meta

یہ مسئلہ صرف کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں رہا۔ بھارت کے علاوہ برطانیہ، فرانس، برازیل، کینیڈا، میکسیکو، اسپین اور کولمبیا سمیت کئی ممالک سے بھی ایسی شکایات سامنے آئیں۔ مختلف ممالک سے ایک جیسی رپورٹس موصول ہونے سے اشارہ ملا کہ یہ مقامی نیٹ ورک یا کسی مخصوص ڈیوائس کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ واٹس ایپ کے پلیٹ فارم کی سطح پر تکنیکی خرابی ہوسکتی ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی کی ویڈیو ہٹانے کے تنازع کے درمیان میٹا کو عدالت سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ عدالت نے سوشل میڈیا کے باعث نوجوانوں کو ہونے والے نقصان سے متعلق مقدمے میں کمپنی کو تقریباً 5 ہزار کروڑ روپے بطور معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ جانیے، آخر پورا معاملہ کیا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی فیس بک ویڈیو ہٹائے جانے کے بعد میٹا نے معذرت کا اظہار کیا۔ جانیے 28 جولائی سے لے کر جوئل کیپلان کی ملاقات، مارک زکربرگ کے معذرتی پیغام اور حکومت کی کارروائی تک اس پورے معاملے کی مکمل ٹائم لائن۔

ذرائع کے مطابق مارک زکربرگ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بعض مخصوص نوعیت کے مواد کو فروغ دینے کے لیے مالی ادائیگیاں کی گئی تھیں۔ انہوں نے اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اپنی غلطی تسلیم کی اور حکومت سے معافی مانگی۔ اس سے قبل سرکاری ذرائع نے بتایا تھا کہ وزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے میٹا سمیت تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو واضح ہدایت دی ہے کہ انہیں ہندوستان کے مقامی قوانین کی مکمل پابندی کرنی ہوگی۔

لوک سبھا سکریٹریٹ نے منسٹری آف الیکٹرانکس اینڈ انفارمیشن ٹکنالوجی کو ایک خط بھیجا ہے، جس میں مارک زکربرگ سے عوامی طورپر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اگر مارک زکر برگ نے مقررہ مدت میں معافی نہیں مانگی توان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

 ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی منمانی پرپارلیمانی کمیٹی سخت ہے۔ وزیراعظم مودی کا ویڈیو ہٹانے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کمیٹی نے میٹا کی معافی مسترد کردی اور کہا کہ اس کے لئے ذمہ دار شخص پر قانونی کارروائی ہو۔

فیس بک، انسٹاگرام اور ڈیسک ٹاپ واٹس ایپ بند ہونے سے دنیا بھر میں کہرام مچ گیا۔ میٹا کی سروسز ٹھپ ہونے سے صارفین پریشان، ‘X’ پر شکایات کا طوفان آ گیا۔

کانگریس نے الزام لگایا کہ ویڈیوز ہٹانے کے احکامات یا تو بہار، راجستھان، مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر جیسی بی جے پی حکومت والی ریاستوں کی پولیس نے جاری کیے یا پھر الیکٹرانکس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے کارروائی کی گئی۔

ملیشیا کی حکومت نے بچوں کو سائبر ہراسانی، آن لائن فراڈ اور جنسی استحصال جیسے بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل خطرات سے بچانے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 16 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر مکمل پابندی لگانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

واٹس ایپ کو اس دوران صارفین کی جانب سے 23,596 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 1,001 اکاؤنٹس پر ایکشن لیا گیا ہے۔