نئی دہلی: بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ دسمبر میں اپنے وطن واپس جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ گرفتاری، قید یا جان کے خطرات سے خوف زدہ نہیں ہیں اور ہر صورت اپنے عوام کے درمیان لوٹنا چاہتی ہیں۔ بنگلہ دیش چھوڑنے کے بعد نئی دہلی میں پہلی مرتبہ ورچوئل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیخ حسینہ نے کہا کہ وہ اپنے ملک کے عوام اور حامیوں کو موجودہ حالات میں تنہا نہیں چھوڑسکتیں۔ انہوں نے کہا ’’میری قسمت میں جو بھی لکھا ہے، میں اپنے لوگوں کے پاس واپس جاؤں گی۔ میں اپنے پیارے ہم وطنوں کو تکلیف میں چھوڑ کر بیرون ملک نہیں رہ سکتی۔ میری خواہش ہے کہ دسمبر میں بنگلہ دیش واپس جاؤں۔‘‘
قتل، گرفتاری یا جیل سے نہیں ڈرتی
شیخ حسینہ نے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ وطن واپسی پر انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے، جیل بھیجا جا سکتا ہے یا ان کے خلاف سیاسی بنیادوں پر مقدمات قائم کیے جا سکتے ہیں، لیکن خوف ان کے فیصلے پر اثرانداز نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا ’’وہ مجھے قتل کر سکتے ہیں، جیل بھیج سکتے ہیں یا میرے خلاف جھوٹے سیاسی مقدمات بنا سکتے ہیں، لیکن عوام کے لیے اپنے فرض سے پیچھے نہیں ہٹوں گی۔‘‘ اپنی سیاسی جدوجہد کا حوالہ دیتے ہوئے شیخ حسینہ نے کہا کہ انہوں نے زندگی میں قید، جلاوطنی اور خاندانی سانحات کا سامنا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1971 میں وہ اپنی والدہ کے ساتھ قید میں تھیں اور اسی دوران ان کے بیٹے سجیب واجد جوئے کی پیدائش ہوئی، جبکہ 1975 میں انہوں نے اپنے خاندان کو کھو دیا اور اس کے بعد چھ برس جلاوطنی میں گزارے۔ سابق وزیراعظم نے بنگلہ دیش کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوامی لیگ پر عائد پابندی فوری طور پر ختم کی جائے، پارٹی کے گرفتار رہنماؤں کو رہا کیا جائے اور کارکنوں کے خلاف درج تمام مقدمات واپس لیے جائیں۔
بھارت نے خود کو پریس کانفرنس سے الگ رکھا
شیخ حسینہ کے خطاب سے قبل بھارتی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ اس پریس کانفرنس سے حکومتِ ہند کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ حکومت نہ تو اس پروگرام میں شامل ہے اور نہ ہی اس میں پیش کیے جانے والے خیالات کی تائید کرتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بھارت نے شیخ حسینہ کو پناہ دیتے وقت اپنی اس پالیسی پر سختی سے عمل کیا ہے کہ بھارتی سرزمین کسی دوسرے خودمختار ملک کے خلاف سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔
ڈھاکہ کے ساتھ سفارتی کشیدگی برقرار
رپورٹ کے مطابق ڈھاکہ حکومت اس وضاحت سے مطمئن نہیں ہے اور اس معاملے پر حال ہی میں بھارت کے ہائی کمشنر سے بھی احتجاج کیا گیا ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ شیخ حسینہ کو سیاسی خطاب کی اجازت ملنے سے دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔ شیخ حسینہ کی حکومت 2024 میں ملک گیر احتجاج کے بعد اقتدار سے بے دخل ہوگئی تھی، جس کے بعد وہ بھارت منتقل ہو گئی تھیں۔ بعد ازاں محمد یونس کی سربراہی میں عبوری حکومت قائم ہوئی اور فروری 2026 میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کامیاب ہوئی، جبکہ عوامی لیگ کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ دریں اثنا بھارت نے پہلی مرتبہ تصدیق کی ہے کہ بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان کو ستمبر میں بھارت میں ہونے والے برکس سربراہ اجلاس میں بطور بِمسٹیک (BIMSTEC) چیئرمین شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
