Bharat Express DD Free Dish

Bangladesh News

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ بنگلہ دیش واپس جانا ان کی ذمہ داری ہے اور اس سے وابستہ خطرات انہیں روک نہیں سکتے۔ ان کے الفاظ میں، ’’میں دسمبر میں بنگلہ دیش واپس جاؤں گی۔ مجھے ڈر نہیں لگتا۔ میں جانتی ہوں کہ وہ مجھے قتل کر سکتے ہیں، گرفتار کر سکتے ہیں اور تشدد کا نشانہ بنا سکتے ہیں، لیکن وہاں جانا میری ذمہ داری ہے۔‘‘

بنگلہ دیش انٹر سروسز پبلک ریلیشنز ڈائریکٹوریٹ (ISPR) نے بتایا کہ فوجی مشق کے دوران ٹینک سے فائرنگ کر رہے تھے۔ اسی دوران اچانک ٹینک میں زوردار دھماکا ہوا اور چاروں طرف دھواں پھیل گیا۔ حادثے کے فوراً بعد راحت اور بچاؤ کا کام شروع کردیا گیا۔

بنگلہ دیش چھوڑنے کے بعد نئی دہلی میں پہلی مرتبہ ورچوئل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیخ حسینہ نے کہا کہ وہ اپنے ملک کے عوام اور حامیوں کو موجودہ حالات میں تنہا نہیں چھوڑسکتیں۔ انہوں نے کہا ’’میری قسمت میں جو بھی لکھا ہے، میں اپنے لوگوں کے پاس واپس جاؤں گی۔ میں اپنے پیارے ہم وطنوں کو تکلیف میں چھوڑ کر بیرون ملک نہیں رہ سکتی۔ میری خواہش ہے کہ دسمبر میں بنگلہ دیش واپس جاؤں۔‘‘

بنگلہ دیش میں 2024 کے سیاسی بحران کے دوران جان بچا کر بھارت میں پناہ لینے والی سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ اب اپنے وطن واپس جانا چاہتی ہیں۔ ان کے حالیہ بیان کے بعد بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے ایک وزیر نے سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں سزائے موت کی یاد دلائی اور خبردار کیا کہ وطن واپسی کی صورت میں انہیں قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔

 بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ نے اس سال کے آخرتک بنگلہ دیش واپس جانے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب، طارق رحمان حکومت نے صدر محمد شہاب الدین سے عہدہ چھوڑنے کے لئے کہا ہے۔ انہیں اگست تک کی مہلت دی گئی ہے۔

بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے دسمبر تک وطن واپس آ کر خودسپردگی کرنے کے دعوے پر بین الاقوامی جرائم ٹریبونل (ICT) نے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ ٹریبونل کا کہنا ہے کہ اگر شیخ حسینہ کو ملک واپس لایا گیا تو انہیں سیدھا جیل بھیجا جائے گا، کیونکہ انہیں پہلے ہی سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔

بنگلہ دیش میں صحافیوں کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے ملک کے سائبر سکیورٹی قانون کے تحت ایک صحافی کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ معاملہ مقامی حکومت، دیہی ترقی اور کوآپریٹو امور کے وزیرِ مملکت میر شاہے عالم سے متعلق مبینہ طور پر ہتک آمیز رپورٹس کی اشاعت سے جڑا ہوا ہے۔

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کا ٹی20 ورلڈ کپ 2026 سے باہر رہنے کا فیصلہ ایک بار پھر بحث کا محور بن گیا ہے۔ بنگلہ دیش کی نئی حکومت نے اس معاملے کی مکمل تحقیقات کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ بورڈ نے عالمی ٹورنامنٹ میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیوں کیا۔

بنگلہ دیش میں حالیہ عام انتخابات میں اقلیتی برادریوں کے چار امیدواروں نے کامیابی حاصل کی۔ ان میں چار ہندو بھی شامل ہیں۔ سبھی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے امیدوار ہیں، جو منگل کو حکومت بنانے کے لیے تیار ہے۔

ڈھاکہ میں 17 فروری کو ہونے والی تاریخی حلف برداری تقریب کے لیے وزیراعظم مودی کو مدعو کیا گیا ہے۔ تاہم اسی دن فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون کے ساتھ ان کی اہم دوطرفہ ملاقات اور ’اے آئی امپیکٹ سمٹ‘ میں مصروفیات کے باعث ان کا جانا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔