Bharat Express DD Free Dish

Bangladesh News

بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم اور عوامی لیگ کی صدر شیخ حسینہ نے ملک کی موجودہ صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ متحد ہو کر بنگلہ دیش کو ’’اندھیرے‘‘ کی طرف دھکیلے جانے سے بچائیں۔ انہوں نے محمد یونس کی قیادت والی عبوری حکومت پر بے لگام بدعنوانی، جھوٹ اور ذاتی مفادات کے ذریعے ملک کو تباہی کے دہانے پر لے جانے کا الزام عائد کیا ہے۔

یہ صرف ایک انفرادی فیصلہ نہیں ہے، بلکہ پورے سیاسی نظام کی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے  قائم کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

ہندوستانی وزارت خارجہ یے بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس کے مشیر محفوظ عالم کے فیس بک پوسٹ پر سخت اعتراض جتایا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہندوستانی حکومت کی طرف سے بنگلہ دیش حکومت سے اس فیس بک پوسٹ پر احتجاج کیا ہے۔

جسٹس محمد غلام مرتضیٰ کی صدارت والے ٹریبیونل نے بنگلہ دیش ٹیلی کمیونی کیشن ریگولیٹری کمیشن (بی ٹی آرسی) کوہدایت دی کہ شیخ حسینہ کی اس طرح کی تقاریرکی موجودہ اورماضی کی مثالوں کو تمام پلیٹ فارم سے ہٹا دیں۔ 

بنگلہ دیشی میڈیا رپورٹ کے مطابق اگر خواتین فوجی حجاب پہننا چاہیں تو وہ اب اسے پہن سکتی ہیں۔ اس بارے میں ایڈجوٹینٹ جنرل کے دفتر سے حکم نامہ جاری کر دیا گیا ہے۔

شیخ حسینہ نے 13 اگست کو ایک بیان دیا تھا، جس میں شیخ حسینہ نے بنگلہ دیش میں ہلاکتوں اور تشدد کو دہشت گردی کے واقعات قرار دیا تھا۔

نومبر 2016 میں، بنگلہ دیش جننیتری پریشد کے صدر اے بی صدیقی کی طرف سے ضیاء کے خلاف مبینہ طور پر جنگی مجرموں کی حمایت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ جنوری 2017 میں، صدیقی نے خالدہ ضیاء کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا۔

عالمگیر نے کہا کہ عوامی غصے کے درمیان حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد بھی ہندوستانی  حکومت نے بی این پی سے بات نہیں کی جبکہ چین، امریکہ، برطانیہ اور پاکستان پہلے ہی بات کر چکے ہیں۔

جماعت اسلامی پر ہائی کورٹ نے 2013 میں الیکشن لڑنے پر پابندی لگا دی تھی۔ اس کے بعد پارٹی کو 2014، 2018 اور اس سال جنوری میں ہونے والے انتخابات سے باہر رہنا پڑا۔

انصار فورس اور حکومت کے درمیان تنازع اس وقت انتہا کو پہنچا جب ممتاز طلبہ رہنماؤں کی حراست کی اطلاع ملنے پر ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلبہ بھی ان کے ساتھ شامل ہوگئے۔