Bharat Express DD Free Dish

Bangladesh apologises for atrocities against Hindus: بنگلہ دیش کے محکمہ داخلہ کے مشیر نے ہندوؤں پر مظالم پر مانگی معافی، کہہ دی یہ بڑی بات

بنگلہ دیش میں بھڑکنے والے تشدد کے درمیان وزیر اعظم شیخ حسینہ نے 5 اگست کو استعفیٰ دے دیا اور ملک چھوڑ کر ہندوستان آگئیں۔ عبوری حکومت کی ذمہ داری نوبل امن انعام یافتہ ماہر معاشیات محمد یونس کو دی گئی ہے۔

بریگیڈیئر جنرل (ر) ایم سخاوت حسین

نئی دہلی: بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے امور داخلہ کے مشیر بریگیڈیئر جنرل (ر) ایم سخاوت حسین نے اقلیتی ہندو برادری سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی ہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا، ’’ہم انہیں سیکورٹی فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ میں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتا ہوں۔‘‘ اور انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ جوڑ لیے۔

سخاوت نے کہا کہ ہم نے ہدایت کی ہے کہ اپنے اقلیتی بھائیوں کی حفاظت کرنا اکثریتی برادری کا مکمل فرض ہے، اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو انہیں جواب دینا ہوگا کہ وہ تحفظ فراہم کرنے میں کیوں ناکام رہے، یہ ہمارے مذہب کا بھی حصہ ہے کہ ہمیں اپنی اقلیتوں کی حفاظت کرنی چاہیے، میں اپنے اقلیتی بھائیوں سے معافی مانگتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ملک انارکی کے دور سے گزر رہا ہے۔ پولیس خود اچھی حالت میں نہیں ہے، اس لیے میں معاشرے سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ان کی حفاظت کریں۔ وہ ہمارے بھائی ہیں اور ہم سب ایک ساتھ پلے بڑھے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ بنگلہ دیش میں گزشتہ چند دنوں میں فسادیوں نے ہندوؤں، دلتوں اور دیگر اقلیتوں پر بڑے پیمانے پر مظالم ڈھائے ہیں۔ ہندو مندروں کو بھی نہیں بخشا گیا۔ ان واقعات کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں ہیں۔

بنگلہ دیش کے بگڑتے ہوئے حالات دیکھ کر ہندو بھارت آنا چاہتے ہیں۔ ساتھ ہی ہندوستان کے سادھو سنتوں میں ان پر ہونے والے حملوں کو لے کر کافی غصہ ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی اپیل کی ہے کہ وہاں ہندوؤں کی حفاظت کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔

بنگلہ دیش میں بھڑکنے والے تشدد کے درمیان وزیر اعظم شیخ حسینہ نے 5 اگست کو استعفیٰ دے دیا اور ملک چھوڑ کر ہندوستان آگئیں۔ عبوری حکومت کی ذمہ داری نوبل امن انعام یافتہ ماہر معاشیات محمد یونس کو دی گئی ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read