Bharat Express DD Free Dish

Bangladesh Unrest

بنگلہ دیش میں صحافیوں پر تشدد کے 293 واقعات درج ہوئے، جن میں 2 صحافی ہلاک، 256 زخمی ہوئے۔ 47 کو ہراساں کیا گیا،  74 کو دھمکایا گیا جبکہ 14 کو گرفتار کیا گیا۔ مزید یہ کہ 105 صحافیوں پر 31 مقدمات درج کیے گئے، جن میں سائبر سکیورٹی ایکٹ 2023 کے تحت 5 مقدمات شامل ہیں۔ مارچ میں ڈھاکہ میں رپورٹنگ کے دوران ایک خاتون صحافی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا افسوسناک واقعہ بھی رپورٹ ہوا۔

مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس حکومتوں سے اپیل کرتا ہے  کہ وہ اپنے شہریوں کے درمیان مذہب کی بنیاد پر تفریق نہ کریں ، اپنے ملک میں رہنے والے تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور امن و امان کو قائم رکھنے کے لیے موثر عملی اقدامات کریں۔

رانچی: بنگلہ دیش میں رہنے والے سنتھال قبائلی برادری کے لوگ بھی شرپسندوں کے نشانہ پر ہیں۔ بنگلہ دیش کے دیناج پور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر کے ایک بڑے چوراہے پر نصب ہندوستانی جدوجہد آزادی کے سنتھال انقلاب کے ہیرو سدھو کانہو کے مجسمے کو شرپسندوں نے گرا دیا ہے۔ یہ معلومات بنگلہ دیش کے مقامی …

بنگلہ دیش میں اقلیتی ہندوؤں اور دیگر کو سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی برطرفی کے بعد سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس واقعے کے خلاف دنیا بھر میں احتجاج کیا جا رہا ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ بنگلہ دیشی اقلیتوں کو بچایا جائے۔

بی ایس ایف کے مطابق عبداللہ نے بیڑی کے پتے اسمگل کرنے کی کوشش میں بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (بی جی بی) کے حفاظتی حصار کو عبور کرکے ہندوستان میں داخل کیا تھا۔

بنگلہ دیش میں بھڑکنے والے تشدد کے درمیان وزیر اعظم شیخ حسینہ نے 5 اگست کو استعفیٰ دے دیا اور ملک چھوڑ کر ہندوستان آگئیں۔ عبوری حکومت کی ذمہ داری نوبل امن انعام یافتہ ماہر معاشیات محمد یونس کو دی گئی ہے۔

شیخ حسینہ نے کہا کہ اگر میں ملک میں رہتی تو مزید جانیں ضائع ہوتیں، اور زیادہ وسائل تباہ ہوتے، میں نے چھوڑنے کا بہت مشکل فیصلہ کیا، میں آپ کی لیڈر بنی، کیونکہ آپ نے مجھے منتخب کیا، آپ میری طاقت تھے۔

نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے حلف اٹھا لیا ہے۔ حلف برداری مقامی وقت کے مطابق رات آٹھ بجے ہوئی۔ یونس عبوری حکومت کی قیادت سنبھالنے کے لیے جمعرات کو پیرس سے ڈھاکہ پہنچے تھے۔

محمد یونس نے کہا، 'بنگلہ دیش نے آج ایک نیا یوم فتح قائم کیا ہے۔ہم نے دوسری بار آزادی حاصل کی ہے، ہمیں اسے ذہن میں رکھتے ہوئے اور اسے مضبوط کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہے۔ نوجوانوں نے اسے ممکن بنایا ہے۔ میں اس کی تعریف کرتا ہوں اور ان نوجوانوں  کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

79سالہ خالدہ ضیا بنگلہ دیش میں نیشنلسٹ پارٹی کی قومی صدر ہیں۔ عدالت نے انہیں 2018 میں کرپشن کیس میں مجرم قرار دیا تھا۔ جیل سے رہائی کے بعد انہوں نے ملک کی عوام سے امن قائم کرنے کی اپیل کی ہے۔