Urdu Conclave 2026

South Asia

روس کی جانب سے جن امکانات پر غور کیا جا رہا ہے، ان میں موجودہ ریلوے نیٹ ورک کو مزید توسیع دے کر جنوبی ایشیا تک پہنچانا شامل ہے۔ اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو روس اور بھارت کے درمیان سامان کی نقل و حمل کے لیے ایک نیا زمینی راستہ دستیاب ہو سکتا ہے۔

بنگلہ دیش چھوڑنے کے بعد نئی دہلی میں پہلی مرتبہ ورچوئل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیخ حسینہ نے کہا کہ وہ اپنے ملک کے عوام اور حامیوں کو موجودہ حالات میں تنہا نہیں چھوڑسکتیں۔ انہوں نے کہا ’’میری قسمت میں جو بھی لکھا ہے، میں اپنے لوگوں کے پاس واپس جاؤں گی۔ میں اپنے پیارے ہم وطنوں کو تکلیف میں چھوڑ کر بیرون ملک نہیں رہ سکتی۔ میری خواہش ہے کہ دسمبر میں بنگلہ دیش واپس جاؤں۔‘‘

اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مہنت ٹھاکر نے کہا ’’ہم انہیں کیا کہیں؟ نیپالی آمر یا نیپالی ہٹلر؟ وہ نیپالی ہٹلر بن چکے ہیں۔ جو کچھ وہ کہتے ہیں، وہی درست سمجھا جاتا ہے اور جو وہ نافذ کرتے ہیں، وہی قانون بن جاتا ہے۔ اس طرزِ حکمرانی سے ملک مزید بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔‘‘ 

تازہ فضائی کارروائی پاکستان کی جانب سے تین ہفتوں کے اندر افغانستان میں کی جانے والی دوسری بڑی کارروائی بتائی جا رہی ہے، جس کے بعد اسلام آباد اور کابل کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

یہ تازہ فضائی کارروائی پاکستان کی جانب سے تین ہفتوں کے اندر افغانستان میں کی جانے والی دوسری بڑی کارروائی بتائی جا رہی ہے، جس کے بعد اسلام آباد اور کابل کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق فروری سے جاری سرحدی جھڑپوں میں دونوں جانب سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ مختلف بین الاقوامی کوششوں اور چین کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے باوجود مستقل جنگ بندی قائم نہیں ہو سکی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ 27 مارچ کو نئی حکومت کے قیام کے بعد سرجیو گور نیپال کا دورہ کرنے والے اب تک کے اعلیٰ ترین امریکی سفارت کاروں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔ ان کا یہ دورہ نہ صرف سفارتی سطح پر اہمیت رکھتا ہے بلکہ مستقبل میں امریکہ–نیپال تعلقات کو نئی سمت دینے کے حوالے سے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

ملک کے تبصرے دفتر خارجہ کے موقف کے برعکس ہیں، جس کے ترجمان نے گزشتہ ہفتے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ کسی تیسرے ملک کے ساتھ بات چیت یا استثنیٰ حاصل کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

دونوں رہنماؤں نے صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے میری ٹائم، ملٹری اور ایرو اسپیس ڈومینز میں مخصوص ٹیکنالوجیز میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے ٹیکنالوجی کی وسیع تر منتقلی، مشترکہ پروڈکشن اور انڈیا کے میک ان انڈیا اور آتم نربھر بھارت اقدامات کے مطابق مقامی صلاحیتوں کی تعمیر پر بھی بات کی۔

بیر گنج میں سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی رمیش رجال، وزیر صنعت، تجارت اور سپلائی، نیپال کی حکومت نے اقتصادی اشاریوں کو بہتر بنانے کے لیے ضروری پالیسی  کی یقین دہانی کرائی۔