Bharat Express DD Free Dish

Pakistani Air Strike: افغانستان حکومت کا پاکستان پر شہری آبادی کو نشانہ بنانے کا الزام، پاکستانی فضائی حملوں میں 36 افغانی شہری جاں بحق، 163 زخمی

یہ تازہ فضائی کارروائی پاکستان کی جانب سے تین ہفتوں کے اندر افغانستان میں کی جانے والی دوسری بڑی کارروائی بتائی جا رہی ہے، جس کے بعد اسلام آباد اور کابل کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق فروری سے جاری سرحدی جھڑپوں میں دونوں جانب سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ مختلف بین الاقوامی کوششوں اور چین کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے باوجود مستقل جنگ بندی قائم نہیں ہو سکی ہے۔

کابل: افغانستان کی طالبان حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے مشرقی صوبوں پکتیا، پکتیکا اور کونار میں کیے گئے سرحد پار فضائی حملوں میں 36 شہری جاں بحق اور 163 دیگر زخمی ہو گئے، جبکہ متعدد رہائشی مکانات تباہ ہو گئے۔ طالبان حکومت کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت نے پیر کے روز سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق گزشتہ شب ہونے والے حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 36 شہری ہلاک ہوئے اور 163 افراد زخمی ہوئے، جبکہ تین رہائشی مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔

ریسکیو کارروائی کے دوران بھی حملے کا دعویٰ

حمد اللہ فطرت کے مطابق صوبہ پکتیا کے ضلع چمکنی کے مندوخیل گاؤں میں پاکستانی جنگی طیاروں نے ایک رہائشی مکان کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک معمر شخص اور ایک بچہ جاں بحق جبکہ خاندان کے دیگر افراد زخمی ہو گئے۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ جب مقامی افراد امدادی کارروائی کے لیے جمع ہوئے تو اسی مقام پر دوبارہ فضائی حملہ کیا گیا، جس میں 28 دیہاتی جاں بحق اور 158 زخمی ہوئے۔ طالبان حکومت کے مطابق صوبہ پکتیکا کے ضلع گیان کے ولست گاؤں میں ایک اور حملے میں ایک رہائشی مکان کو نشانہ بنایا گیا، جہاں خواتین اور بچوں کی اکثریت سمیت چھ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اسی دوران صوبہ کونار کے ضلع منوگئی کے برولو گاؤں میں بھی ایک شہری کے مکان پر حملہ کیا گیا۔ طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم مکان مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور بھاری مالی نقصان پہنچا۔

پاکستان کا موقف اور بڑھتی سرحدی کشیدگی

دوسری جانب پاکستانی حکام نے ان کارروائیوں کو سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف ایک منظم انٹیلی جنس بنیاد پر کیا گیا زمینی اور فضائی آپریشن قرار دیا ہے۔ پاکستان کے وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ یہ کارروائی حالیہ دہشت گرد حملوں کے جواب میں کی گئی، جن میں خیبر پختونخوا، بلوچستان اور کراچی میں سکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق کراچی کے گلستانِ جوہر میں واقع سندھ رینجرز کے ہیڈکوارٹر پر ہفتے کی رات ہونے والے حملے میں تین رینجرز اہلکار اور تین حملہ آور مارے گئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری جماعت الاحرار سے منسلک ایک گروپ نے قبول کی تھی۔ یہ تازہ فضائی کارروائی پاکستان کی جانب سے تین ہفتوں کے اندر افغانستان میں کی جانے والی دوسری بڑی کارروائی بتائی جا رہی ہے، جس کے بعد اسلام آباد اور کابل کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق فروری سے جاری سرحدی جھڑپوں میں دونوں جانب سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ مختلف بین الاقوامی کوششوں اور چین کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے باوجود مستقل جنگ بندی قائم نہیں ہو سکی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read