Bharat Express DD Free Dish

Border Conflict

یہ تازہ فضائی کارروائی پاکستان کی جانب سے تین ہفتوں کے اندر افغانستان میں کی جانے والی دوسری بڑی کارروائی بتائی جا رہی ہے، جس کے بعد اسلام آباد اور کابل کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق فروری سے جاری سرحدی جھڑپوں میں دونوں جانب سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ مختلف بین الاقوامی کوششوں اور چین کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے باوجود مستقل جنگ بندی قائم نہیں ہو سکی ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی ایک بار پھر خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ جمعرات کی دیر رات افغانستان کی جانب سے مبینہ حملوں کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید خراب ہو گئے ہیں، جس پر پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے سخت ردعمل دیتے ہوئے افغانستان کو ’کھلی جنگ‘ کی وارننگ دے دی ہے۔ انہوں نے افغان طالبان حکومت پر بھارت کی حمایت کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

اسلامی امارت افغانستان کے نائب ترجمان حمداللہ فطرت نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ آپریشن کے دوران متعدد پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ کچھ اہلکاروں کو زندہ گرفتار بھی کیا گیا ہے۔