Bharat Express DD Free Dish

Humanitarian Crisis

متاثرہ علاقوں میں پھنسے لوگوں تک پہنچنے اور لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے 15 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار سرچ، ریسکیو اور امدادی کارروائیوں میں تعینات کیے گئے ہیں۔ یہ قدرتی آفت 26 اگست کو اس وقت شروع ہوئی جب تبت-نیپال سرحد پر ایک تباہ کن اچانک سیلاب آیا۔

وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز نے بتایا کہ 24 جون سے اب تک ملک میں 782 آفٹر شاکس ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، اگرچہ ان کی شدت اور تعداد میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔ انہوں نے زلزلے کے متاثرین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے سات روزہ قومی سوگ کا بھی اعلان کیا ہے۔

یہ تازہ فضائی کارروائی پاکستان کی جانب سے تین ہفتوں کے اندر افغانستان میں کی جانے والی دوسری بڑی کارروائی بتائی جا رہی ہے، جس کے بعد اسلام آباد اور کابل کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق فروری سے جاری سرحدی جھڑپوں میں دونوں جانب سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ مختلف بین الاقوامی کوششوں اور چین کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے باوجود مستقل جنگ بندی قائم نہیں ہو سکی ہے۔

ایران کے شہر مناب میں لڑکیوں کے اسکول پر حملے کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے اسے انتہائی خوفناک واقعہ قرار دیا اور کہا کہ ہم اس واقعے کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘‘ اطلاعات کے مطابق اس حملے میں 160 سے زیادہ طالبات اس وقت ہلاک ہوئیں جب وہ اسکول میں زیرتعلیم تھیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق کالماگی فلپائن سے نکل کر جنوبی بحیرۂ چین کی طرف بڑھ رہا ہے اور اس کے مزید طاقتور ہونے کا امکان ہے۔ ویتنام میں جمعہ کو ممکنہ لینڈ فال (زمینی تودے کھسکنے) کے پیش نظر حکام نے ہنگامی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔

افغانستان حالیہ برسوں میں متعدد تباہ کن زلزلوں سے دوچار رہا ہے۔ ناقص تعمیرات اور دور دراز علاقوں میں وسائل کی کمی کے باعث امدادی کارروائیاں اکثر مشکل ہو جاتی ہیں۔ گزشتہ سال 31 اگست کو مشرقی افغانستان میں 6.0 شدت کے زلزلے میں 2,200 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے، جبکہ 7 اکتوبر 2023 کے زلزلے اور اس کے بعد آنے والے ضمنی جھٹکوں میں بھی طالبان حکومت کے مطابق کم از کم 4,000 افراد مارے گئے تھے۔

صدر ولودیمیر زیلنسکی نے بتایا کہ روس کے ایک ڈرون حملے میں خارکیف شہر کے ایک کنڈرگارٹن کو نشانہ بنایا گیا، جس میں ایک شخص ہلاک اور 7 افراد زخمی ہو گئے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’’بچوں کو محفوظ نکالا گیا، روس کا یہ عمل انسانیت کے خلاف ہے۔‘‘

بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے اور شدید بارش کے باعث پنجاب کا وسیع حصہ زیرآب، بنیادی ڈھانچے اور زرعی زمینوں کو شدید نقصان۔ دریائے ستلج، راوی اور چناب میں طغیانی نے لاکھوں افراد کو گھروں سے بے دخل کر دیا۔

پریس کلب آف انڈیا میں ایسو سی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس کی جانب سے پریس کانفرنس کا انعقاد، ماہر قانون، صحافی اور سماجی و انسانی حقوق کے کارکنان نے  کی شرکت ۔

ٹرمپ انتظامیہ غزہ کے 10 لاکھ لوگوں کو لیبیا منتقل کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، لیبیا کی رضامندی پر امریکہ ایک دہائی سے رکا ہوا اربوں ڈالر کا امدادی فنڈ جاری کر سکتا ہے