Veena Sikri, India’s former High Commissioner: طارق رحمان حکومت شیخ حسینہ کی واپسی کے اعلان سے خوفزدہ، وینا سیکری کا دعویٰ
وینا سیکری کے مطابق طارق رحمان کے وزیر اعظم بننے کے بعد ہندوستان آنے کے معاملے میں شیخ حسینہ کو وجہ بنایا جا رہا ہے۔ پہلے یہ قیاس آرائیاں تھیں کہ طارق رحمان 20 سے 22 اگست کے درمیان ہندوستان کا دورہ کرسکتے ہیں، لیکن شیخ حسینہ کی 5 اگست کی پریس کانفرنس کے بعد اچانک ان کی واپسی کے معاملے کو بنیاد بنایا جانے لگا۔انہوں نے کہا کہ حوالگی ایک قانونی معاملہ ہے اور اس میں وقت لگتا ہے۔
In-exchange for Sheikh Hasina Bangladesh: ’شیخ حسینہ کے بدلے…‘ طارق رحمٰن کو بھارت بھیجنے سے پہلے بنگلہ دیش نے رکھی یہ شرط
بنگلہ دیش کے وزیر اعظم طارق رحمٰن کے ممکنہ بھارت دورے سے متعلق نئی سفارتی پیچیدگی سامنے آئی ہے۔ ڈھاکہ نے واضح کیا ہے کہ طارق رحمٰن کے نئی دہلی دورے کے لیے مناسب اور سازگار ماحول بننا ضروری ہے، جبکہ بنگلہ دیش نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حوالگی کے معاملے کو بھی اس دورے سے جوڑ دیا ہے۔
They may kill me, put me in jail: شیخ حسینہ نے دسمبر میں بنگلہ دیش واپسی کا کیا اعلان، کہا-’’مجھے قتل کیا جا سکتا ہے، جیل بھیجا جا سکتا ہے، لیکن اپنے عوام کو تنہا نہیں چھوڑسکتی‘‘
بنگلہ دیش چھوڑنے کے بعد نئی دہلی میں پہلی مرتبہ ورچوئل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیخ حسینہ نے کہا کہ وہ اپنے ملک کے عوام اور حامیوں کو موجودہ حالات میں تنہا نہیں چھوڑسکتیں۔ انہوں نے کہا ’’میری قسمت میں جو بھی لکھا ہے، میں اپنے لوگوں کے پاس واپس جاؤں گی۔ میں اپنے پیارے ہم وطنوں کو تکلیف میں چھوڑ کر بیرون ملک نہیں رہ سکتی۔ میری خواہش ہے کہ دسمبر میں بنگلہ دیش واپس جاؤں۔‘‘
شیخ حسینہ کی پریس کانفرنس پر بنگلہ دیش نے اٹھایا سوال، وزارت خارجہ نے دیا جواب، کہا- ’’یہ ان کا ذاتی پروگرام، ہندوستانی حکومت کا کوئی لینا دینا نہیں‘‘
بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی پریس کانفرنس سے متعلق خبر کی وجہ سے تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔ بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ پہلے ہی تصدیق کرچکی ہے کہ وزیراعظم طارق رحمان کوبرکس اجلاس میں شرکت کی دعوت موصول ہوئی ہے، جسے غوروخوض کے لئے وزیراعظم کے دفتربھیج دیا گیا ہے۔
Bangladesh President Mohammad Shahabuddin Resigns: بنگلہ دیش میں بڑا الٹ پھیر، صدرمحمد شہاب الدین نے دیا استعفیٰ، شیخ حسینہ کی واپسی کے اعلان سے تعطل برقرار
بنگلہ دیش کے صدرمحمد شہاب الدین نے استعفیٰ دے دیا ہے، جسے اسپیکرحافظ الدین احمد نے قبول کرلیا ہے۔ آئین کے مطابق، اب سپیکرنئے صدرکے انتخاب تک قائم مقام صدرکے طورپرذمہ داری سنبھالیں گے۔
Tarique Rahman vs Sheikh Hasina: شیخ حسینہ کی واپسی کے اعلان سے بنگلہ دیش میں ہنگامہ، صدر کو ہٹانے جا رہی ہے طارق رحمان حکومت
بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ نے اس سال کے آخرتک بنگلہ دیش واپس جانے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب، طارق رحمان حکومت نے صدر محمد شہاب الدین سے عہدہ چھوڑنے کے لئے کہا ہے۔ انہیں اگست تک کی مہلت دی گئی ہے۔
Sheikh Hasina said I will return to Bangladesh Very Soon: ”میری خاموشی کو کمزوری مت سمجھنا، بہت جلد لوٹوں گی بنگلہ دیش“، سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی بڑا بیان
سابق وزیراعظم شیخ حسینہ نے کہا ہے کہ وہ جلد بنگلہ دیش واپس آئیں گی۔ ہندوستان میں جلاوطنی کے دوران، انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی پارٹی عوامی لیگ کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے بنگلہ دیش کی حکومت پر معیشت کو بحران میں ڈالنے کا الزام لگایا۔
Sheikh Hasina Extradition: شیخ حسینہ کی حوالگی پر بھارتی وزارت خارجہ کا بیان، بنگلہ دیش نے کیا سابق وزیر اعظم کی حوالگی کا مطالبہ
رندھیر جیسوال نے کہا کہ بھارت تمام پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایس جے شنکر نے بنگلہ دیش کی نئی حکومت کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے پر زور دیا ہے۔ دونوں ممالک نے دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے باہمی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
Bangladesh Awami League: بنگلہ دیش میں دوبارہ سرگرم ہوئی عوامی لیگ، کیا شیخ حسینہ کی ہوگی واپسی؟
حالیہ انتخابات کے فوری بعد عوامی لیگ نے بنگلہ دیش میں اپنی سیاسی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔ پارٹی کے لیڈروں نے سب سے پہلے کھلنا شہر میں اپنا دفتر کھولا ہے، جہاں شیخ مجیب الرحمٰن اور شیخ حسینہ کی تصاویر نصب کی گئی ہیں۔ یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب بنگلہ دیش میں عوامی لیگ پر پابندی عائد ہے۔
Sheikh Hasina Extradition: بی این پی کی جیت کے بعد شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ، بھارت سے مثبت اقدام کی امید،طارق رحمان کے قریبی لیڈرکا بیان
شیخ حسینہ اگست 2024 میں ملک میں بڑے عوامی احتجاج کے بعد اقتدار چھوڑ کر بھارت منتقل ہو گئی تھیں۔ بعد ازاں نومبر 2025 میں بنگلہ دیش کے ایک خصوصی ٹریبونل نے 2024 کے طلبہ احتجاج کے دوران مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق ایک مقدمے میں انہیں غیر حاضری میں سزائے موت سنائی تھی۔





