Bharat Express DD Free Dish

Sheikh Hasina

ڈھاکہ کی ایک خصوصی عدالت نے پرباچل پلاٹ اسکینڈل میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو 10 سال اوران کی بھانجی ٹیولپ صدیق کو4 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ اس کیس میں شیخ حسینہ کے خاندان کے دیگرافراد کوبھی سزا سنائی گئی تھی۔

بنگلہ دیش کی عبوری یونس حکومت نے گزشتہ سال جولائی میں شیخ حسینہ کے خلاف جولائی میں ہونے والی بغاوت کے مظاہرین کے خلاف دائر تمام دیوانی اور فوجداری مقدمات کو واپس لینے کا آرڈیننس جاری کیا ہے۔ یہ اقدام آئندہ الیکشن سے قبل سیاسی طورپر اہم ہے۔

بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم اور عوامی لیگ کی صدر شیخ حسینہ نے ملک کی موجودہ صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ متحد ہو کر بنگلہ دیش کو ’’اندھیرے‘‘ کی طرف دھکیلے جانے سے بچائیں۔ انہوں نے محمد یونس کی قیادت والی عبوری حکومت پر بے لگام بدعنوانی، جھوٹ اور ذاتی مفادات کے ذریعے ملک کو تباہی کے دہانے پر لے جانے کا الزام عائد کیا ہے۔

بنگلہ دیش میں 13واں پارلیمانی الیکشن 12 فروری 2026 کو ہوگا۔ اسی دن جولائی چارٹر کونافذ کرنے کے لئے ایک ریفرنڈم بھی ہوگا۔ 12 فروری کو صبح 7:30 بجے سے شام 4:30 بجے تک ووٹنگ ہوگی۔ اس بار ووٹنگ کا وقت ایک گھنٹہ بڑھایا گیا ہے کیونکہ اسی دن ریفرنڈم بھی ہو رہا ہے۔

بنگلادیش کی ایک خصوصی عدالت نے جمعرات کے روز سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو تین کرپشن کیسز میں مجموعی طور پر اکیس سال قید کی سزا سناتے ہوئے ملک کی سیاست میں ایک بڑا موڑ پیدا کر دیا ہے۔ ڈھاکہ کے اسپیشل جج محمد عبداللہ نے اپنے فیصلے میں بتایا کہ ہر مقدمے میں سات سال قید کی سزا مقرر کی گئی ہے، جبکہ انہی الزامات سے متعلق باقی تین مقدمات کا فیصلہ یکم دسمبر کو سنایا جائے گا۔

بنگلہ دیش کی معزول وزیراعظم شیخ حسینہ کو انٹرنیشنل کرائم ٹربیونل (آئی سی ٹی) کی جانب سے دی گئی سزائے موت کے فیصلے کے بعد ملک کی سیاست میں بھونچال آ گیا ہے۔ شیخ حسینہ کے بیٹے اور عوامی لیگ پارٹی کے اہم لیڈر ساجیب احمد واجد نے اس فیصلے کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دیتے ہوئے یونُس حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

بنگلہ دیش میں انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل (آئی سی ٹی) 17 نومبر کو سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں اپنا فیصلہ سنائے گا۔ ڈھاکہ اور دیگر شہروں میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ بنگلہ دیش ہائی الرٹ پر ہے، فوج اور پولیس کی تعیناتی اور ملک بھر میں لاک ڈاؤن ہے۔

سرجیس نے یہ بھی کہا کہ 5 اگست 2024 کو جس خواب کے لیے ہزاروں طلباء اور شہریوں نے اپنی جانیں قربان کی تھیں، وہ خواب اب تک پورا نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہمیں سول سوسائٹی طرز کی کوئی عبوری حکومت نہیں چاہیے بلکہ ایسی حکومت چاہیے جو عوام کے حقوق کو یقینی بنا سکے۔‘‘

بتادیں کہ آئی سی ٹی کا قیام 2010 میں خود شیخ حسینہ کی حکومت نے 1971 کی جنگ آزادی کے دوران پاکستانی فوج اور ان کے مقامی ساتھیوں کے جنگی جرائم، نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کی تحقیقات کے لیے کیا تھا۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ وہی ٹریبونل اب انہیں سزا دے رہا ہے۔

بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کوبنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمزٹریبونل سے بڑی راحت ملی ہے۔ عدالت نے ان کے دفاع کے لئے سینئر وکیل امین الغنی کو فراہم کیا ہے۔ یہ فیصلہ شیخ حسینہ کے لئے راحت کی بات ہے کیونکہ امین الغنی کا شمار بنگلہ دیش کے سرکردہ وکلاء میں ہوتا ہے۔