Bharat Express DD Free Dish

opposition attack

وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے ہفتہ کو قوم سے کیے گئے خطاب پر اپوزیشن جماعتوں نے سخت حملہ کیا ہے۔ اپوزیشن نے اسے ’’مایوسی میں دی گئی انتخابی تقریر‘‘ قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ اس نشریات کے اخراجات کو بی جے پی کے انتخابی خرچ میں شامل کیا جائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ 2029 کے انتخابات میں خواتین کو ان کا حق دینے کی کوشش کی جا رہی تھی، مگر اپوزیشن کے رویے کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو سکا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ملک کی خواتین اس سب کو دیکھ رہی ہیں اور وقت آنے پر فیصلہ کریں گی۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب راہل گاندھی نے بجٹ اجلاس کے پہلے مرحلے میں ایم ایس پی کو حکومت پر اپنی تنقید کا مرکزی نکتہ بنایا تھا، خاص طور پر بھارت-امریکہ عبوری تجارتی معاہدے کے تناظر میں۔ راہل گاندھی نے الزام لگایا تھا کہ یہ معاہدہ کسانوں کے ساتھ ’غداری‘ ہے جس سے سرکاری خریداری کا نظام کمزور ہو سکتا ہے اور ایم ایس پی و بونس میں کمی آسکتی ہے۔

جب صحافیوں نے پوچھا کہ وہ وزیراعظم کو ’’سمجھوتہ شدہ‘‘ کیوں مانتے ہیں تو راہل گاندھی نے امریکہ میں گوتم اڈانی کے خلاف مبینہ مقدمے اور ایپسٹین فائلز کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا: ’’امریکہ میں اڈانی جی پر جو کیس ہے، دراصل وہ مودی جی پر کیس ہے۔ اس کے علاوہ ایپسٹین فائلز میں ایسی کئی باتیں ہیں جو ابھی تک امریکہ نے عام نہیں کی ہیں۔ ان دونوں معاملات کی وجہ سے شدید دباؤ ہے۔ یہی دو بڑے پریشر پوائنٹس ہیں۔ ملک کو یہ حقیقت سمجھنی چاہیے۔‘‘

راہل گاندھی نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ’’جنرل نرونے کی یادداشت شائع نہیں ہونے دی جا رہی، سچ سامنے آیا تو مودی اور راج ناتھ سنگھ کی حقیقت عوام پر عیاں ہو جائے گی۔‘‘ چین کے ساتھ سرحدی تنازع، قومی سلامتی اور سابق آرمی چیف کی غیر مطبوعہ یادداشت کے حوالے سے پیدا ہونے والا یہ تنازع آنے والے دنوں میں سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

ووٹروں کے ناموں کی بڑے پیمانے پر کٹوتی نے اتر پردیش کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک طرف الیکشن کمیشن اسے انتظامی اور قانونی عمل قرار دے رہا ہے، تو دوسری طرف اپوزیشن اسے سیاسی سازش بتا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ ریاستی سیاست میں مزید بحث کا موضوع بن سکتا ہے۔

مہاراشٹر کی بلدیاتی سیاست میں نظریات پس پشت، اقتدار کے لیے غیر متوقع اتحادوں پر سیاسی ہلچل، حالیہ نگر پریشد انتخابات میں اکولا ضلع کی اکوٹ نگر پریشد اور تھانے کی امبرناتھ نگر پریشد میں واضح اکثریت نہ ملنے کے بعد بی جے پی نے اقتدار کے حصول کے لیے کہیں کانگریس اور کہیں AIMIM سے اتحاد کر لیا۔

ترنمول کانگریس نے بی جے پی پر شدید حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت کی گہری جڑوں والی ’بنگلہ مخالف ذہنیت‘ نے مغربی بنگال کو شدید محرومی میں مبتلا کر دیا ہے۔ٹی ایم سی نے مرکز پر تقریباً دو لاکھ کروڑ روپے روکنے کا الزام عائد کیا اور وزیر اعظم کے بیانات کو ’مگرمچھ کے آنسو‘ قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا۔

کانگریس کی یہ ریلی ایسے وقت میں منعقد ہوئی ہے جب پارٹی مبینہ الیکشن میں بے ضابطگیوں، ’ووٹ چوری‘ اور اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے خلاف اپنی مہم تیز کر چکی ہے۔ ریلی سے راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی سمیت کئی سینئر لیڈروں نے خطاب کیا۔

کانگریس کی اس ریلی کو پارٹی نے الیکشن میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف فیصلہ کن جدوجہد کا حصہ قرار دیا ہے۔ پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ ’ووٹ چوری‘ اور SIR کے معاملے پر یہ مہم مزید تیز کی جائے گی اور بی جے پی حکومت کو عوام کے سامنے جواب دہ بنایا جائے گا۔