Bharat Express DD Free Dish

democracy debate

اس معاملے پر اعتراض درج کرانے کے لیے رواں ہفتے کانگریس کے 10 رکنی وفد نے چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات بھی کی تھی۔ وفد نے نامزدگی مسترد کیے جانے کے فیصلے پر اپنے تحفظات پیش کرتے ہوئے نظرثانی کا مطالبہ کیا تھا۔

عدالت عظمیٰ نے کانگریس رہنما ٹی ڈی راج گوڑا کو عبوری راحت فراہم کرتے ہوئے ان کی اسمبلی رکنیت فی الحال برقرار رکھنے کا حکم دیا۔ ووٹوں کی دوبارہ گنتی پر سپریم کورٹ کا عبوری حکم۔

کپل سبل نے الزام لگایا کہ 96 فیصد سے زیادہ ووٹر نام غلط طور پر انتخابی فہرستوں سے حذف کیے گئے تھے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا: ’’اس کا مطلب یہ ہے کہ 96 فیصد سے زیادہ نام غلط طریقے سے حذف کیے گئے۔ چیف الیکشن کمشنر زندہ باد۔ بی جے پی نے اسی طرح جیت حاصل کی!‘‘

سماجوادی پارٹی سربراہ نے دعویٰ کیا کہ انتخابات کے دوران مغربی بنگال میں تین لاکھ سے زیادہ مرکزی فورسز تعینات کی گئیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اتر پردیش اور بہار سے بڑی تعداد میں فورسز کو انتخابی ڈیوٹی کے لیے مغربی بنگال لایا گیا۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ جب اتر پردیش میں انتخابات ہوں گے تو وہاں بنگال، آسام، ناگالینڈ اور اروناچل پردیش سے فورسز بھیجی جائیں گی۔

کانگریس کے اس بیان نے ایک بار پھر بھارت میں میڈیا کی آزادی اور اس کے معیار پر بحث چھیڑ دی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں آزاد صحافت کو درپیش چیلنجز جمہوریت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے اس پر اب تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

مغربی بنگال میں 294 رکنی اسمبلی کے انتخابات دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو ہوں گے جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ ریاست میں حکمراں ترنمول کانگریس، بی جے پی، کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔

ممتا بنرجی نے الزام لگایا کہ جہاں ایک طرف 60 لاکھ سے زائد حقیقی ووٹرز کی درخواستیں زیر التوا ہیں اور غلط عمل کے باعث 200 سے زائد افراد جان گنوا چکے ہیں، وہیں الیکشن کمیشن مشتبہ طور پر بڑی تعداد میں جعلی درخواستوں کو تیزی سے نمٹا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ سپریم کورٹ کے احکامات کے بھی خلاف ہے اور مغربی بنگال میں آزاد و منصفانہ انتخابات پر براہِ راست حملہ ہے۔

راہل گاندھی کے بیان پر لوک سبھا میں ہنگامہ، پرینکا گاندھی نے بی جے پی حکومت کو پارلیمنٹ کی کارروائی میں خلل ڈالنے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ حکومت بار بار پنڈت نہرو کا نام لے کر عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔

ووٹروں کے ناموں کی بڑے پیمانے پر کٹوتی نے اتر پردیش کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک طرف الیکشن کمیشن اسے انتظامی اور قانونی عمل قرار دے رہا ہے، تو دوسری طرف اپوزیشن اسے سیاسی سازش بتا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ ریاستی سیاست میں مزید بحث کا موضوع بن سکتا ہے۔

کانگریس کی اس ریلی کو پارٹی نے الیکشن میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف فیصلہ کن جدوجہد کا حصہ قرار دیا ہے۔ پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ ’ووٹ چوری‘ اور SIR کے معاملے پر یہ مہم مزید تیز کی جائے گی اور بی جے پی حکومت کو عوام کے سامنے جواب دہ بنایا جائے گا۔