نئی دہلی: کانگریس کے راجیہ سبھا رکن اور سینئر وکیل کپل سبل نے ہفتہ کے روز مغربی بنگال میں ووٹر فہرستوں سے نام حذف کیے جانے کے معاملے میں بے ضابطگیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں سابق چیف جسٹس ٹی ایس شیوگیانم کا حوالہ دیا، جو مغربی بنگال میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے دوران ووٹر فہرست سے خارج کیے گئے افراد کی اپیلوں کی سماعت کرنے والے 19 اپیلیٹ ٹریبونلز میں شامل تھے۔ کپل سبل نے دعویٰ کیا کہ زیادہ تر اپیلوں میں فیصلہ اپیل کنندگان کے حق میں آیا۔ انہوں نے لکھا: ’’جسٹس ٹی ایس شیوگانم، مغربی بنگال انتخابات میں اپیلوں کی سماعت کرنے والے 19 ٹریبونلز میں سے ایک نے 1777 اپیلوں کا تصفیہ کیا، جن میں 1717 کو منظوری دی گئی۔‘‘
96 فیصد نام غلط طریقے سے حذف کیے گئے
ان اعداد و شمار کی وضاحت کرتے ہوئے کپل سبل نے الزام لگایا کہ 96 فیصد سے زیادہ ووٹر نام غلط طور پر انتخابی فہرستوں سے حذف کیے گئے تھے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا: ’’اس کا مطلب یہ ہے کہ 96 فیصد سے زیادہ نام غلط طریقے سے حذف کیے گئے۔ چیف الیکشن کمشنر زندہ باد۔ بی جے پی نے اسی طرح جیت حاصل کی!‘‘
جسٹس شیوگانم نے ٹریبونل سے استعفیٰ دیا
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب جسٹس ٹی ایس شیوگانم نے جمعرات کے روز اپیلیٹ ٹریبونل سے استعفیٰ دے دیا۔ اس سے قبل سپریم کورٹ آف انڈیا نے ہدایت دی تھی کہ مغربی بنگال میں ایس آئی آر مہم کے دوران ووٹر فہرست سے خارج کیے گئے افراد کی اپیلوں کی ترجیحی بنیادوں پر سماعت کی جائے، خاص طور پر ان معاملات میں جہاں اپیل کنندگان فوری سماعت کی ضرورت ثابت کر سکیں۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے خارج شدہ ووٹروں کو اپنی شکایات کے سلسلے میں کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے رجوع کرنے کی بھی آزادی دی۔ عدالت نے اپنے مشاہدے میں کہا کہ درخواست گزار اور دیگر فریقین انتظامی سطح پر کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے رجوع کر سکتے ہیں، جبکہ اگر معاملے میں عدالتی مداخلت درکار ہو تو وہ عدالتی سطح پر بھی چیف جسٹس سے رجوع کر سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ جن افراد کے نام ایس آئی آر کے دوران حذف کیے گئے ہیں اور جنہوں نے اپیلیٹ ٹریبونل میں اپیل دائر کی ہے، ان کی اپیلوں کی ترجیحی بنیادوں پر سماعت کی جا سکتی ہے، خاص طور پر ایسے اپیل کنندگان کی جو فوری ضرورت ثابت کرنے میں کامیاب ہوں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

