Bharat Express DD Free Dish

political allegation

کپل سبل نے الزام لگایا کہ 96 فیصد سے زیادہ ووٹر نام غلط طور پر انتخابی فہرستوں سے حذف کیے گئے تھے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا: ’’اس کا مطلب یہ ہے کہ 96 فیصد سے زیادہ نام غلط طریقے سے حذف کیے گئے۔ چیف الیکشن کمشنر زندہ باد۔ بی جے پی نے اسی طرح جیت حاصل کی!‘‘

کانگریس لیڈر نے خواتین کے تحفظ کے معاملے پر بھی بی جے پی اور ترنمول کانگریس دونوں کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دونوں جماعتیں اپنے اپنے علاقوں میں ملزمان کو تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے آر جی کر میڈیکل کالج کے مبینہ ریپ اور قتل کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے معاملات میں جوابدہی کا فقدان ہے اور حکومتیں مجرموں کے خلاف سخت کارروائی نہیں کرتیں۔

یہ معاملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک کی سیاست میں پارٹی بدلنے کا رجحان ایک بار پھر زور پکڑ رہا ہے، جس پر مختلف سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر شدید الزامات عائد کر رہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے کے قانونی اور سیاسی اثرات مزید واضح ہونے کا امکان ہے۔

راہل گاندھی نے مرکز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’پارلیمنٹ میں جو خواتین بل پیش کیا گیا، اس کا مقصد دراصل اسے پاس کرانا نہیں تھا بلکہ اس کے ذریعے حلقہ بندی بل کو خاموشی سے منظور کروانا تھا۔ وہ ہندوستان کے انتخابی نظام کو تبدیل کرنا چاہتے تھے۔‘‘

اپوزیشن جماعتیں مسلسل ایس آئی آر کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ اس عمل کے ذریعے ووٹر لسٹ میں جانبدارانہ تبدیلیاں کر کے بی جے پی کو انتخابی فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ایک بار پھر راہل گاندھی سے کہا ہے کہ وہ قواعد کے مطابق حلفیہ بیان دیں یا اپنے ’’غلط‘‘ الزامات پر قوم سے معافی مانگیں۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ اگر الزامات کے ثبوت ہیں تو فراہم کیے جائیں، ورنہ عوام کو گمراہ کرنے سے گریز کیا جائے۔

راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ مہاراشٹر میں پانچ مہینوں میں جتنے ووٹرز کا اضافہ ہوا، اتنا اضافہ پچھلے پانچ سالوں میں نہیں ہوا تھا۔ ان کے مطابق ایک کروڑ سے زائد ووٹرز کا اضافہ ہوا، جس سے ریاستی انتخابات میں کانگریس اتحاد کو نقصان پہنچا۔

کانگریس کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی جب بھی ملک کے مفاد میں بولے، حکومت کو یو-ٹرن لینا پڑا۔ کووڈ، نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جیسے ایشوز پر ان کی پیش گوئیاں درست ثابت ہوئیں۔