Bharat Express DD Free Dish

Voter list controversy

مہاراشٹر میں ایس آئی آر کے دوران ووٹر لسٹ سے بڑے پیمانے پر نام ہٹائے جانے کے الزامات پر سپریم کورٹ نے مرکزی الیکشن کمیشن، ریاستی الیکشن کمیشن اور دیگر متعلقہ فریقوں کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا ہے۔ جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے یہ نوٹس جاری کیا۔

اعظم گڑھ کے اسمبلی حلقہ نمبر 347 کی ووٹر لسٹ میں وکاس یادو نام کئی بار درج ہونے کے معاملے میں اتر پردیش کے چیف الیکشن افسر نے قصوروار ملازمین کے خلاف کارروائی کی ہدایت دی ہے۔ ووٹر لسٹ تیار کرنے میں لاپروائی اور نگرانی میں کوتاہی برتنے کے الزام میں اس وقت کے الیکٹورل رجسٹریشن افسر اور دو اسسٹنٹ الیکٹورل رجسٹریشن افسران کے خلاف بھی محکمہ جاتی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

کپل سبل نے الزام لگایا کہ 96 فیصد سے زیادہ ووٹر نام غلط طور پر انتخابی فہرستوں سے حذف کیے گئے تھے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا: ’’اس کا مطلب یہ ہے کہ 96 فیصد سے زیادہ نام غلط طریقے سے حذف کیے گئے۔ چیف الیکشن کمشنر زندہ باد۔ بی جے پی نے اسی طرح جیت حاصل کی!‘‘

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرورنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ شیئرکرکے الیکشن کمیشن پرسوال اٹھایا ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ آج انڈیا بلاک کے اراکین پارلیمنٹ کے احتجاج میں ہم سب پوچھ رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن راہل گاندھی کے سنجیدہ سوالات کا سنجیدہ جواب کیوں نہیں دے سکا؟

یہ تنازعہ اب محض ایک فہرست یا ایک نام کا معاملہ نہیں رہا، بلکہ انتخابی شفافیت اور جمہوریت پر سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ کیا واقعی بہار میں لاکھوں ووٹ حذف کیے گئے؟ یا یہ صرف سیاسی شور ہے؟ الیکشن کمیشن اور تیجسوی یادو کے بیانات نے اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔