Supreme Court Issues Notice: مہاراشٹر میں ووٹر لسٹ تنازع پر سپریم کورٹ کا الیکشن کمیشن کو نوٹس، 33 فیصد نام ہٹائے جانے کے معاملے میں جواب طلب
مہاراشٹر میں ایس آئی آر کے دوران ووٹر لسٹ سے بڑے پیمانے پر نام ہٹائے جانے کے الزامات پر سپریم کورٹ نے مرکزی الیکشن کمیشن، ریاستی الیکشن کمیشن اور دیگر متعلقہ فریقوں کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا ہے۔ جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے یہ نوٹس جاری کیا۔
UP Voter List Row: ’وکاس یادو‘ کا نام 13 بار درج، سماجوادی پارٹی کے الزام کے بعد کارروائی، اعظم گڑھ میں 5 بی ایل او سمیت 9 افراد کے خلاف ایکشن
اعظم گڑھ کے اسمبلی حلقہ نمبر 347 کی ووٹر لسٹ میں وکاس یادو نام کئی بار درج ہونے کے معاملے میں اتر پردیش کے چیف الیکشن افسر نے قصوروار ملازمین کے خلاف کارروائی کی ہدایت دی ہے۔ ووٹر لسٹ تیار کرنے میں لاپروائی اور نگرانی میں کوتاہی برتنے کے الزام میں اس وقت کے الیکٹورل رجسٹریشن افسر اور دو اسسٹنٹ الیکٹورل رجسٹریشن افسران کے خلاف بھی محکمہ جاتی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
Kapil Sibal Targets EC: ’’بنگال میں ایس آئی آر کے دوران 96 فیصد ووٹروں کے نام غلط طریقے سے حذف کیے گئے‘‘ سینئر وکیل کپل سبل کا بڑا الزام
کپل سبل نے الزام لگایا کہ 96 فیصد سے زیادہ ووٹر نام غلط طور پر انتخابی فہرستوں سے حذف کیے گئے تھے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا: ’’اس کا مطلب یہ ہے کہ 96 فیصد سے زیادہ نام غلط طریقے سے حذف کیے گئے۔ چیف الیکشن کمشنر زندہ باد۔ بی جے پی نے اسی طرح جیت حاصل کی!‘‘
Shashi Tharoor On Election Commission: الیکشن کمیشن پر کانگریس حملہ آور، ساتھ آئے ششی تھرور الیکشن کمیشن سے پوچھا سوال- راہل گاندھی کے سنگین سوالوں کا کیوں نہیں مل رہا ہے جواب؟
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرورنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ شیئرکرکے الیکشن کمیشن پرسوال اٹھایا ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ آج انڈیا بلاک کے اراکین پارلیمنٹ کے احتجاج میں ہم سب پوچھ رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن راہل گاندھی کے سنجیدہ سوالات کا سنجیدہ جواب کیوں نہیں دے سکا؟
Election Commission rejects Tejashwi Yadav’s claim: تیجسوی یادو کا ووٹر لسٹ سے نام حذف کیے جانے کے دعوے کو الیکشن کمیشن نےکیا خارج، آرجےڈی لیڈر نے چھیڑ دیا نیا محاذ
یہ تنازعہ اب محض ایک فہرست یا ایک نام کا معاملہ نہیں رہا، بلکہ انتخابی شفافیت اور جمہوریت پر سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ کیا واقعی بہار میں لاکھوں ووٹ حذف کیے گئے؟ یا یہ صرف سیاسی شور ہے؟ الیکشن کمیشن اور تیجسوی یادو کے بیانات نے اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔





