Bharat Express DD Free Dish

Shashi Tharoor On Election Commission: الیکشن کمیشن پر کانگریس حملہ آور، ساتھ آئے ششی تھرور الیکشن کمیشن سے پوچھا سوال- راہل گاندھی کے سنگین سوالوں کا کیوں نہیں مل رہا ہے جواب؟

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرورنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ شیئرکرکے الیکشن کمیشن پرسوال اٹھایا ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ آج انڈیا بلاک کے اراکین پارلیمنٹ کے احتجاج میں ہم سب پوچھ رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن راہل گاندھی کے سنجیدہ سوالات کا سنجیدہ جواب کیوں نہیں دے سکا؟

رکن پارلیمنٹ ششی تھرور۔ (فائل فوٹو)

نئی دہلی: کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرورنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پرایک پوسٹ شیئرکرکے الیکشن کمیشن پرسوال اٹھایا ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ آج انڈیا بلاک کے اراکین پارلیمنٹ کے احتجاج میں ہم سب پوچھ رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن راہل گاندھی کے سنجیدہ سوالات کا سنجیدہ جواب کیوں نہیں دے سکا؟ حلف اورحلف نامہ جیسی رسمی کارروائیوں پراصرار کرنے کے بجائے۔

رکن پارلیمنٹ ششی تھرورنے مزید لکھا کہ الیکشن کمیشن کے مفاد میں یہ ضروری ہے کہ وہ انتخابی عمل کی ایمانداری اورساکھ کو لے کر ووٹروں کے ذہن میں پیدا ہونے والے شکوک وشبہات کو دورکرے اورنشاندہی کی گئی کوتاہیوں کوآسانی سے دورکیا جا سکتا ہے اوراس کے ساتھ ایسے جوابات بھی دیئے جا سکتے ہیں، جس سے ووٹنگ لسٹ میں دھاندلی کے خدشات دورہوسکتے ہیں۔ ملک واقعی ان سوالات کے جوابات کا مستحق ہے۔

ایس آئی آرپرانڈیا الائنس کا احتجاجی مارچ

آج اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ ہاؤس سے الیکشن کمیشن تک احتجاجی مارچ کیا۔ تاہم انہیں پارلیمنٹ کے احاطے کے باہر ہی روک دیا گیا اورلوک سبھا میں اپوزیشن لیڈرراہل گاندھی، پرینکا گاندھی، سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اورشیوسینا (یوبی ٹی) کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت سمیت کئی اراکین پارلیمنٹ کوبھی حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ احتجاجی مارچ بہارمیں ایس آئی آراور2024 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران مبینہ دھاندلی کے خلاف تھا۔ کانگریس کے سینئرلیڈراورایم پی ششی تھرورسمیت کئی سرکردہ لیڈروں نے احتجاج میں حصہ لیا۔

الیکشن کمیشن کی ساکھ پر سوال

ششی تھرورنے کہا کہ جب تک لوگوں کوانتخابات کے منصفانہ ہونے پرشک ہے، الیکشن کمیشن کی ساکھ خطرے میں ہے۔ لیکن اگر یہ شکوک وشبہات دور ہوجائیں توالیکشن کمیشن کی ساکھ بحال ہوجائے گی۔ الیکشن کمیشن کا اپنا مفاد اسی میں ہے کہ وہ اپوزیشن کے سوالوں کا جواب دے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read