Bharat Express DD Free Dish

Kapil Sibal

سینئروکیل اورراجیہ سبھا کے رکن کپل سبل نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ پرامن مظاہرین کے خلاف کوئی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہرممکن قانونی مدد فراہم کی جائے گی۔ کپل سبل نے کہا کہ ملک میں جہاں کہیں بھی پرامن احتجاج کے دوران طلبا کونشانہ بنایا جائے گا اوران کے خلاف مقدمات درج کئے جائیں گے، وہاں انھیں تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

کپل سبل نے الزام لگایا کہ 96 فیصد سے زیادہ ووٹر نام غلط طور پر انتخابی فہرستوں سے حذف کیے گئے تھے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا: ’’اس کا مطلب یہ ہے کہ 96 فیصد سے زیادہ نام غلط طریقے سے حذف کیے گئے۔ چیف الیکشن کمشنر زندہ باد۔ بی جے پی نے اسی طرح جیت حاصل کی!‘‘

کپل سبل نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں کسی بھی جماعت کے پاس واضح اکثریت نہیں ہے، اس لیے آئینی روایت اور سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کے مطابق سب سے بڑی پارٹی کو پہلے حکومت بنانے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق گورنر کو ٹی وی کے کے سربراہ وجے کو مدعو کر کے حلف دلانا چاہیے اور پھر اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کے لیے مناسب وقت دینا چاہیے۔

معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی حراست کے معاملے نے ایک بار پھر سیاسی اور قانونی حلقوں میں بحث کو تیز کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ 11 جنوری کو سونم وانگچُک کی اہلیہ گیتانجلی آنگمو کی جانب سے دائر عرضی پر سماعت کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی گیتانجلی نے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو کو ایک جذباتی خط لکھ کر اپنے شوہر کی غیر مشروط رہائی کی اپیل کی ہے۔

جہاں ایک طرف حکومت اسے ووٹر لسٹ کی شفافیت کا عمل قرار دے رہی ہے، وہیں اپوزیشن اسے جمہوری اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والی کارروائی مان رہی ہے۔ بہار کی سیاست میں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات نے آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل ایک نیا موڑ لے لیا ہے۔

سینئروکیل کپل سبل نے کہا کہ وقف کرنے کے لئے کم ازکم 5 سال مسلم ہونا ضروری اورجائیداد پرتنازعہ کا نمٹارہ کرنے کا اختیار کلکٹر کو دینے جیسے التزام اگرنافذ ہوگئے توناقابل تلافی نقصان ہوگا۔

پل سبل نے سوال کیا کہ "وزیراعظم پہلگام کیوں نہیں گئے؟ اس پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔ جب ملک سوال پوچھ رہا ہے تو جواب دینے والا کوئی کیوں نہیں ہے؟ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ روز سوالوں کے جواب دیتے ہیں، لیکن یہاں کوئی جواب کیوں نہیں دیتا؟

راجیہ سبھا رکن اورسینئر وکیل کپل سبل نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے وزیراعظم سے پارلیمنٹ کا خصوصی سیشن بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے متفقہ قرارداد منظورکرکے دنیا کواتحاد کا پیغام دینے پرزوردیا۔

اس حملے کو 2008 کے ممبئی حملوں کے بعد بھارت میں سب سے خطرناک دہشت گرد حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ کپل سبل نے کہا کہ اس سنگین واقعہ پر بحث کے لیے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلایا جانا چاہیے۔

الیکشن کمیشن کو ’’غیر فعال‘‘ اور ’’ناکام‘‘ ادارہ قرار دیتے ہوئے راجیہ سبھا ممبر کپل سبل نے دعویٰ کیا ہے کہ عوام کے ایک بڑے حصے کو انتخابی ادارے پر بھروسہ نہیں رہا، کیوں کہ اس نے اپنی آئینی ذمہ داریوں کے مطابق کام نہیں کیا ہے۔