Bharat Express DD Free Dish

Kapil Sibal

مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ہندوستان جیسے عظیم جمہوری ملک میں ایک سیکولر آئین کے موجود رہتے ہوئے جس طرح یہ قانون لایا گیا وہ جانبداری، امتیاز اور تعصب کا مظہر ہے ہی نہیں آئین کی بعض دفعات کا حوالہ دے کرجس طرح قبائل کو اس قانون سے الگ رکھا گیا وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلمانوں کی سماجی اور مذہبی شناخت کو مجروح اورختم کرنے کی غرض سے ہی یہ قانون وضع کیا گیا ہے۔

جنوری 2025 میں اتراکھنڈ میں یکساں سول کوڈ نافذ کیا گیا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء ہند نے آج نینیتال ہائی کورٹ میں اس قانون کے خلاف عرضی داخل کی اور اتراکھنڈ کے چیف جسٹس کے سامنے اس کا ذکر کیا۔

سپریم کورٹ نے اتر پردیش حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ مختار انصاری کی میڈیکل رپورٹ، مجسٹریٹ رپورٹ اور ان کی موت کی عدالتی تحقیقاتی رپورٹ 2 ہفتوں کے اندر عمر انصاری کو فراہم کرے۔

اعظم خان کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل کپل سبل نے دلیل دی کہ لیز کو بند کرنے سے پہلے کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا۔ ٹرسٹ کو جواب دینے کے لیے پہلے نوٹس دینا چاہیے تھا۔

سماعت کے دوران کپل سبل نے کہا کہ یہ الزام ہے کہ مختار کو جیل میں زہر دیا گیا تھا۔ اس کی تحقیق ضروری ہے۔ سبل نے کہا کہ انہوں نے پہلے باندہ جیل میں مختار انصاری کی جان کو خطرہ کے خوف سے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ لیکن اب مختار کا انتقال ہو چکا ہے۔

نتیجہ کا اعلان ہونے سے پہلے بار اینڈ بنچ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کپل سبل نے کہا تھا، "وکلاء قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے کے لیے موجود ہیں، ایک وکیل کا مقصد آئین کی حفاظت کرنا ہے... لہذا اگر آپ سیاسی طور پر بارکونسل  میں شامل ہوتے ہیں۔

ہیمنت سورین کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل کپل سبل نے سپریم کورٹ سے کہا تھا، "اس طرح کے معاملات میں اس عدالت کو پیغام بھیجنے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک وزیر اعلیٰ سے متعلق معاملہ ہے

ایڈوکیٹ شیام دیوان نے عدالت کو بتایا کہ اگر غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی حیثیت دی گئی تو آنے والی نسلیں بھی اپنا قانونی حق طلب کریں گی جس کی وجہ سے ہندوستان کی سماجی، سیاسی، معاشی حالت پر اثر پڑے گا۔

کپل سبل نے کہا کہ ابھی تک الزامات طے ہونے  کا کوئی امکان نہیں ہے، آپ اسے کب تک وہاں رکھیں گے؟  انہوں نے کہا کہ یہ کوئی معاملہ نہیں ہے کہ وہ اس طرح مخالفت کریں۔  عمر خالد نے کبھی کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا۔ بات صرف یہ ہے کہ کوئی سازش ہے،ایسی کوئی سازش نہیں جس کے تحت یہ دفعہ لگائے جائیں۔

خواتین کا ریزرویشن بل ایک آئینی ترمیمی بل ہے، جو بھارت میں لوک سبھا اور تمام ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33فیصد ریزرویشن فراہم کرتا ہے۔ یہ بل پہلی بار 1996 میں پیش کیا گیا تھا ۔لیکن اب تک پاس نہیں ہو سکا۔