Bharat Express DD Free Dish

Kapil Sibal elected President of Supreme Court Bar Association: کپل سبل کو ملی بڑی جیت، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدارتی انتخاب میں بڑے فرق سے ہوئے کامیاب،بن گئے صدر

نتیجہ کا اعلان ہونے سے پہلے بار اینڈ بنچ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کپل سبل نے کہا تھا، “وکلاء قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے کے لیے موجود ہیں، ایک وکیل کا مقصد آئین کی حفاظت کرنا ہے… لہذا اگر آپ سیاسی طور پر بارکونسل  میں شامل ہوتے ہیں۔

سینئر وکیل کپل سبل سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ جمعرات (16 مئی) کو ہونے والے انتخابات میں کپل سبل کو 1066 ووٹ ملے۔ ان کے قریب ترین حریف سینئر وکیل پردیپ رائے تھے، جنھیں 689 ووٹ ملے۔ کپل سبل نے دو دہائیوں کے بعد یہ الیکشن لڑا تھا۔ اس سے پہلے وہ 1995، 1997 اور 2001 میں ایس سی بی اے کے صدر رہ چکے ہیں۔

نتیجہ کا اعلان ہونے سے پہلے بار اینڈ بنچ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کپل سبل نے کہا تھا، “وکلاء قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے کے لیے موجود ہیں، ایک وکیل کا مقصد آئین کی حفاظت کرنا ہے… لہذا اگر آپ سیاسی طور پر بارکونسل  میں شامل ہوتے ہیں۔ یا جھکاؤ رکھتے ہیں ، اگر آپ اسے اس بنیاد پر تقسیم کرتے ہیں، تو آپ اصل میں بطور وکیل اپنا فرض پورا نہیں کر رہے ہیں۔

کپل سبل کے صدر منتخب ہونے اور الیکشن جیتے پر مبارکبادیوں کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔ اس سلسلے میں نہ صرف وکلا اور ججز کی جانب سے انہیں مبارکباد پیش کی جارہی ہیں بلکہ سیاسی گلیاروں سے بھی انہیں مبارکباد پیش کی جارہی ہے۔ سیاسی لیڈران میں دہلی کے وزیراعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کجریوال نے کپل سبل کو سب سے پہلے مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے ایکس پر مبارکباد دیتے ہوئے پیغام میں لکھا کہ یہ بہت بڑی خبر ہے اس کیلئے آپ کو بہت بہت مبارکباد۔ وہیں اکھلیش یادو نے بھی کپل سبل کو اس کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read