Bharat Express DD Free Dish

supreme court of india

سپریم کورٹ نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کامیڈین سمے رینا سمیت شو میں شریک دیگر کامیڈینز اور مہمانوں پر تین، تین لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے اور دو ہفتوں میں رقم جمع کرانے کی ہدایت بھی دی ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ سمے رینا نے کورٹ کو گمراہ کرنے کی کوشش کی اور اس کے سامنے غلط بیانات پیش کیے۔

ترنمول کانگریس نے عدالت عظمیٰ میں دعویٰ کیا ہے کہ ووٹر لسٹ سے بڑی تعداد میں نام حذف کیے جانے کے باعث کئی اسمبلی حلقوں کے انتخابی نتائج متاثر ہوئے ہیں۔ پارٹی کے مطابق ریاست کی متعدد سیٹوں پر کامیابی کا فرق ان ووٹوں کی تعداد سے بھی کم تھا جو ایس آئی آر کے دوران ووٹر فہرست سے خارج کیے گئے۔ اس معاملے پر سپریم کورٹ نے ٹی ایم سی کو نئی درخواستیں دائر کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

بھارت کے چیف جسٹس جسٹس سوریہ کانت نے مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کے بڑھتے اثرات اور اس سے جڑے سماجی خطرات پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اگر انسانی اقدار اور سماجی انصاف سے دور ہو جائے تو یہ معاشرے میں نئی قسم کی ناانصافیاں پیدا کر سکتی ہے۔

سپریم کورٹ نے اشتعال انگیز تقاریر (ہیٹ اسپیچ) سے متعلق دائر تمام عرضیوں کو خارج کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس معاملے سے نمٹنے کے لیے موجودہ قانونی ڈھانچہ کافی ہے اور عدالت مزید ہدایات جاری کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی۔

سپریم کورٹ کے اس حکم کے بعد گجرات ہائی کورٹ کے 17 اپریل کے فیصلے پر بھی مؤثر طور پر روک لگ گئی ہے۔ ہائی کورٹ نے اس سے قبل ریاستی حکومت کو احمد آباد کے موٹیرا علاقے میں واقع تقریباً 45 ہزار مربع میٹر زمین پر قبضہ لینے کی راہ ہموار کر دی تھی۔ یہ زمین نریندر مودی اسٹیڈیم کے قریب واقع ہے اور اسے مجوزہ اسپورٹس ڈیولپمنٹ زون کے لیے استعمال کیے جانے کا منصوبہ تھا۔

دہلی فسادات سے متعلق کیس میں گرفتار سماجی کارکن عمر خالد کو ایک بار پھر عدالت سے کوئی راحت نہیں مل سکی۔ سپریم کورٹ آف انڈیا نے ان کی جانب سے دائر نظرثانی عرضی کو خارج کر دیا ہے، جس کے بعد ان کی جیل میں قیام بدستور جاری رہے گا۔

عدالت نے اپنے حکم میں قومی شاہراہوں کے اطراف قائم تمام غیر قانونی تجاوزات، بشمول ڈھابے، ہوٹل اور دیگر تجارتی سرگرمیوں کو فوری طور پر ہٹانے کی ہدایت دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی نئے غیر مجاز تعمیرات یا کاروباری سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران عرضی گزار کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے دلیل دی کہ ملک میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے نہ ہونے کی وجہ سے شریعت اپلیکیشن ایکٹ 1937 نافذ العمل ہے، جس کے باعث لاکھوں مسلم خواتین کو انصاف سے محروم ہونا پڑ رہا ہے۔

عدالت نے کہا کہ ٹریبونل ووٹنگ سے دو دن پہلے تک زیر التوا درخواستوں کا فیصلہ کرے گا اور منظور شدہ درخواست دہندگان کو کلیئرنس سرٹیفکیٹ جاری کرے گا۔ تاہم صرف درخواست دینا کافی نہیں ہوگا بلکہ متعلقہ دستاویزات کی مکمل جانچ کے بعد ہی فیصلہ لیا جائے گا۔

سپریم کورٹ آف انڈیا نے مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ اپڈیٹ کرنے کے لیے 24 گھنٹے کی مہلت مقرر کر دی ہے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کو ہدایت دی ہے کہ زیر التوا دعوؤں پر فیصلہ کرتے ہوئے جلد از جلد حتمی فہرست جاری کی جائے۔