Bharat Express DD Free Dish

supreme court of india

وقف ترمیمی قانون 2025 کو چیلنج دینے والی عرضیوں پرسپریم کورٹ میں آج سماعت شروع ہوگئی ہے۔ جسٹس بی آرگوئی اور جسٹس مسیح کی بینچ سماعت کررہی ہے۔

کرنل صوفیہ قریشی کے خلاف متنازعہ ریمارکس دینے والے مدھیہ پردیش حکومت میں وزیروجے شاہ کی مشکلات کم نہیں ہو رہی ہیں۔ سپریم کورٹ نے ایک بار سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ سپریم کورٹ میں آج اس معاملے کی جب سماعت ہوئی، تو عدالت نے سخت لہجہ اپناتے ہوئے ان کے معافی کو بھی قبول نہیں کیا۔ سپریم کورٹ نے وجے شاہ کی گرفتاری پرروک ضرورلگائی ہے، لیکن ایس آئی ٹی کی تشکیل کردی ہے، جواس پورے معاملے کی جانچ کرے گی۔

چیف جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس آگسٹین جارج مسیح کی بنچ نے کہا کہ پنشن دینے سے انکار کرنا آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت مساوات کے حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس کو پنشن کی شکل میں سالانہ 15 لاکھ اور ایڈیشنل ججوں سمیت ہائی کورٹ کے سبھی ججوں کو ہر سال 13.50 لاکھ روپے دئیے جائیں گے۔

کسی کو مکمل نہیں کہا جا سکتا، مگر میں نے ہمیشہ اپنی بہترین کوشش کی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ میں آپ بہت کچھ نیا سیکھتے ہیں جو ہائی کورٹ میں نہیں ہوتا۔

سپریم کورٹ نے مرکز کو حکم دیا کہ وہ بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے لیے خصوصی POCSO عدالتیں قائم کرے۔ عدالت نے زیر التواء مقدمات اور ججوں کی کمی پر تشویش کا اظہار کیا، اور 100+ ایف آئی آر پر ہر ضلع میں ایک POCSO عدالت قائم کرنے کو کہا۔

جسٹس بی آر گوئی نے دہشت گردی، جنگ اورملکی ذمہ داری پر اپنے واضح خیالات کا اظہار کیا، وہ 14 مئی کو ہندوستان کے 52 ویں چیف جسٹس کے طور پر حلف لینے جا رہے ہیں۔

چیف جسٹس سنجیو کھنہ اور جسٹس سنجے کمار کی بنچ کے سامنے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے فورنسک رپورٹ پیش کی۔ اس کے بعد بنچ نے لاء افسر سے معاملے کی جانچ سے متعلق ریاستی افسران سے ہدایت لینے کو کہا۔

سپریم کورٹ نے وقف ایکٹ کو چیلنج کرنے والی نئی عرضیوں پر سماعت سے انکار کر دیا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ پہلے سے دائر پانچ درخواستوں پر ہی غور ہوگا، نئی عرضیاں مسترد کر دی گئیں ہیں

سابق آئی پی ایس سنجیو بھٹ کو 1990 کی حراستی موت کے کیس میں سپریم کورٹ سے راحت نہیں ملی اور عدالت عظمیٰ نے ضمانت کی درخواست مسترد کر دی، البتہ اپیل پر جلد سماعت کی ہدایت دی

سپریم کورٹ کے ایک ایڈوکیٹ نے اٹارنی جنرل آر وینکٹرمنی کو بھیجے گئے خط میں توہین عدالت کا مقدمہ دائر کرنے کی اجازت طلب کی ہے۔ یوپی کے سابق آئی پی ایس امیتابھ ٹھاکر نے بھی سپریم کورٹ میں اس معاملے میں عرضی داخل کی ہے۔ انہوں نے بھی اٹارنی جنرل کو اجازت کے لیے خط بھیجا ہے