Bharat Express DD Free Dish

West Bengal Elections

وڈودرا میں سرداردھام ہاسٹل کے افتتاح کے بعد خطاب کرتے ہوئے انہوں نے گجرات کے بلدیاتی اور پنچایت انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی کارکردگی کو بھی شاندار قرار دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ گجرات کے عوام نے ہمیشہ سیاسی استحکام کو ترجیح دی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ریاست مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

کپل سبل نے الزام لگایا کہ 96 فیصد سے زیادہ ووٹر نام غلط طور پر انتخابی فہرستوں سے حذف کیے گئے تھے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا: ’’اس کا مطلب یہ ہے کہ 96 فیصد سے زیادہ نام غلط طریقے سے حذف کیے گئے۔ چیف الیکشن کمشنر زندہ باد۔ بی جے پی نے اسی طرح جیت حاصل کی!‘‘

اس انتخاب میں خصوصی انٹینسیو ریویژن بھی ایک بڑا فیکٹر ثابت ہوا، جس کے تحت تقریباً 90 لاکھ ووٹرز کے نام فہرستوں سے ہٹائے گئے۔ بی جے پی نے اسے غیرقانونی دراندازوں کے خلاف قدم قرار دیا، جبکہ ٹی ایم سی نے اسے مخصوص طبقوں کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کی سازش بتایا۔

الیکشن کمیشن کے مطابق اب بھی ہزاروں پولنگ اسٹیشنوں کا ڈیٹا مکمل طور پر اپڈیٹ نہیں ہوا، جس کے باعث ووٹنگ کا فیصد مزید بڑھ سکتا ہے۔ مجموعی طور پر مغربی بنگال میں اس بار کی ووٹنگ نے نہ صرف پرانے ریکارڈ توڑ دیے بلکہ جمہوری شرکت کے ایک نئے معیار کو بھی قائم کیا ہے، جو آنے والے انتخابات کے لیے ایک اہم مثال بن سکتا ہے۔

الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق پورب بردھمان ضلع 92.46 فیصد ووٹنگ کے ساتھ سب سے آگے رہا۔ اس کے بعد ہگلی میں 90.34 فیصد، نادیہ میں 90.28 فیصد اور ہاوڑہ میں 89.44 فیصد ووٹنگ درج کی گئی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق ووٹنگ کے بعد ایگزٹ پول کے نتائج شام 6:30 بجے کے بعد ہی جاری کیے جا سکیں گے، کیونکہ اس سے قبل ان کی اشاعت پر پابندی عائد ہے۔ حتمی نتائج 4 مئی کو سامنے آئیں گے۔ ایگزٹ پولز کو انتخابی نتائج کی ابتدائی تصویر سمجھا جاتا ہے، تاہم یہ ہمیشہ درست ثابت نہیں ہوتے کیونکہ یہ محدود نمونوں پر مبنی ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود یہ سیاسی جماعتوں، میڈیا اور عوام کے لیے ایک اہم اشارہ فراہم کرتے ہیں اور انتخابی ماحول کا رخ متعین کرتے ہیں۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ اس بار مغربی بنگال میں ووٹنگ ایک بے خوف ماحول میں ہو رہی ہے، جو ماضی میں ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے کہا: ’’یہ ہمارے آئین اور جمہوریت کی مضبوطی کی نشانی ہے۔ میں بنگال کے عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ اپنے حقوق کے تئیں بیدار ہیں اور بڑی تعداد میں ووٹ ڈال رہے ہیں۔‘‘

ٹی ایم سی لیڈر نے الزام لگایا کہ گزشتہ پانچ مہینوں سے مرکز اور الیکشن کمیشن مسلسل عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے بجائے اسے پیچیدہ اور مشکوک بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں پارٹی نے جو مہم شروع کی تھی، وہ اب دوسرے مرحلے میں اپنے انجام کی طرف بڑھ رہی ہے

الیکشن کمیشن کے مطابق اس مرحلے میں 3 کروڑ 21 لاکھ سے زائد ووٹرز اپنے حق رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں۔ کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 3,21,73,837 ہے، جن میں 1,64,35,627 مرد، 1,57,37,418 خواتین اور 792 تھرڈ جینڈر ووٹرز شامل ہیں۔ اس مرحلے میں مجموعی طور پر 1,448 امیدواروں کی قسمت داؤ پر لگی ہوئی ہے۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے دوسرے اور آخری مرحلے کے لیے انتخابی مہم پیر کی شام 6 بجے اختتام پذیر ہو گئی، جس کے ساتھ ہی 48 گھنٹوں کا سائلنس پیریڈ نافذ ہو گیا ہے۔ اب 29 اپریل کو ریاست کی 142 اسمبلی نشستوں پر سخت سکیورٹی کے درمیان ووٹنگ ہوگی، جس میں لاکھوں ووٹر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔