Bharat Express DD Free Dish

Mamata Banerjee accused BJP: مغربی بنگال میں انتخابات منسوخ کر کے صدر راج نافذ کرنے کی سازش، ممتا بنرجی کا بی جے پی پر بڑا الزام

مغربی بنگال میں 294 رکنی اسمبلی کے انتخابات دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو ہوں گے جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ ریاست میں حکمراں ترنمول کانگریس، بی جے پی، کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔

مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے اسمبلی انتخابات سے قبل ایک بڑا سیاسی الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ریاست میں ہونے والے آئندہ انتخابات کو منسوخ کرانے اور صدر راج نافذ کرنے کی سازش کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کو مرشد آباد ضلع کے ساگر دیغی میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کے دوران کہی، جہاں انہوں نے مرکزی حکومت، الیکشن کمیشن اور بی جے پی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ممتا بنرجی نے دعویٰ کیا کہ ریاست میں انتظامیہ ان کے کنٹرول میں نہیں رہی کیونکہ انتخابی ضابطۂ اخلاق کے نفاذ کے بعد قانون و نظم کی ذمہ داری الیکشن کمیشن کے پاس ہے، جو مبینہ طور پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے اشاروں پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداران جیسے چیف سکریٹری، ہوم سکریٹری، ڈی جی پی اور دیگر افسران کو تبدیل کر دیا گیا ہے، جس سے حکومتی کام کاج متاثر ہوا ہے۔

مالدہ واقعہ اور سیاسی کشیدگی میں اضافہ

وزیراعلیٰ نے مالدہ میں پیش آنے والے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بارے میں پہلے سے کوئی اطلاع نہیں تھی اور وہ اس واقعے سے میڈیا کے ذریعے آگاہ ہوئیں۔ اس واقعے میں سات عدالتی افسران، جن میں تین خواتین بھی شامل تھیں، کو مقامی لوگوں نے گھیر لیا تھا، جس کے بعد ریاست میں سیاسی ہلچل مچ گئی۔ یہ واقعہ دراصل انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے عمل کے دوران بڑے پیمانے پر ناموں کے اخراج کے خلاف احتجاج کے نتیجے میں پیش آیا۔ مظاہرین نے کئی علاقوں میں سڑکیں بند کر دیں، جس سے معمولات زندگی متاثر ہوئے۔ اس معاملے پر سپریم کورٹ آف انڈیا نے بھی سخت نوٹس لیتے ہوئے اسے عدالتی نظام میں رکاوٹ ڈالنے کی سنگین کوشش قرار دیا اور ریاستی حکام سے وضاحت طلب کی ہے۔

الیکشن منسوخی اور ’سپر صدر راج‘ کا الزام

ممتا بنرجی نے الزام لگایا کہ بی جے پی عوام کو مشتعل کر کے حالات کو اس نہج پر لے جانا چاہتی ہے جہاں انتخابات منسوخ ہو جائیں اور ریاست پر زبردستی قبضہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو عوام اپنے ووٹ کے حق سے محروم ہو جائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ الیکشن کمیشن نے ان کے اختیارات محدود کر دیے ہیں اور مرکزی حکومت و گورنر کے ساتھ مل کر ریاست میں ایک طرح کا ’’سپر صدر راج‘‘ نافذ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مالدہ، مرشد آباد اور اتر دیناج پور کے علاقوں میں عوامی بے چینی بڑھ رہی ہے اور لوگ بی جے پی کی مبینہ سازش کا شکار ہو رہے ہیں۔

انتخابی منظرنامہ اور سخت مقابلہ

مغربی بنگال میں 294 رکنی اسمبلی کے انتخابات دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو ہوں گے جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ ریاست میں حکمراں ترنمول کانگریس، بی جے پی، کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ یاد رہے کہ 2021 کے اسمبلی انتخابات میں ترنمول کانگریس نے زبردست کامیابی حاصل کرتے ہوئے 213 نشستیں جیتی تھیں، جبکہ بی جے پی نے 77 نشستوں کے ساتھ اپنی پوزیشن مضبوط کی تھی۔ اس کے برعکس کانگریس اور بائیں محاذ کو ایک بھی نشست حاصل نہیں ہوئی تھی۔ موجودہ حالات میں سیاسی بیان بازی، الزامات اور جوابی حملوں نے انتخابی ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے، جس سے واضح ہے کہ آنے والے دنوں میں مغربی بنگال کی سیاست مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read