Bharat Express DD Free Dish

state politics

بل کے حق میں 176 اور مخالفت میں 41 ووٹ ڈالے گئے، ’’عوامی تحفظ اور انسداد سماج دشمن سرگرمیاں بل 2026‘‘ منظور کرانے کے بعد حکومت نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قانون سے منظم جرائم پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

تملگا ویٹری کزگم کو کانگریس، سی پی آئی، سی پی آئی ایم، وی سی کے اور انڈین یونین مسلم لیگ کی حمایت حاصل ہوئی۔ اتحادی جماعتوں کی حمایت کے بعد حکومت کی مجموعی طاقت 120 ارکان تک پہنچ گئی، تاہم 144 ووٹ ملنے سے یہ اشارہ ملا کہ اے آئی اے ڈی ایم کے کے کچھ باغی اراکین نے بھی پارٹی وہپ کے خلاف جا کر حکومت کی حمایت کی۔

گاندھی میدان میں منعقدہ تقریب کو این ڈی اے کی سیاسی طاقت کے مظاہرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس کابینہ توسیع میں سماجی توازن، نوجوان قیادت اور تنظیمی مضبوطی پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ نئی کابینہ میں خواتین، پسماندہ طبقات اور مختلف علاقوں کو نمائندگی دے کر آئندہ اسمبلی انتخابات کے لیے مضبوط سیاسی پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

محمد اظہرالدین کی کرسی خطرے میں نظرآرہی ہے۔ آئین کے مطابق اگر کوئی شخص رکن اسمبلی یا قانون ساز کونسل (MLC) کا رکن نہ ہو تو وہ صرف چھ ماہ تک ہی وزیر رہ سکتا ہے۔ محمد اظہرالدین نے اب تک رکنیت نہیں حاصل کی ہے اور یہ مدت 30 اپریل 2026 کو ختم ہو رہی ہے

لوک بھون میں منعقدہ تقریب میں سمراٹ چودھری کو گورنر سید عطاء حسنین نے عہدے کا اور رازداری کا حلف دلایا۔  سمراٹ چودھری بہار میں بی جے پی کے پہلے وزیراعلیٰ بنے ہیں۔ جنتا دل (یونائیٹڈ) کے بجیندر پرساد یادو اور وجے کمار چودھری کو نئی حکومت میں نائب وزرائے اعلیٰ کی حیثیت سے حلف دلایا گیا ہے۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ اگر کیرالہ میں این ڈی اے کی حکومت قائم ہوتی ہے تو ریاست ترقی کی نئی بلندیوں کو چھو سکتی ہے۔ انہوں نے شمال مشرقی ریاستوں اور گوا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جہاں این ڈی اے حکومتیں قائم ہیں، وہاں ترقی کے وہ کام انجام دیے گئے ہیں جو گزشتہ 50 سے 60 برسوں میں نہیں ہوسکے تھے۔

مغربی بنگال میں 294 رکنی اسمبلی کے انتخابات دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو ہوں گے جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ ریاست میں حکمراں ترنمول کانگریس، بی جے پی، کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔

کانگریس رہنما نے ایل ڈی ایف حکومت کو ’’کارپوریٹ فنڈڈ حکومت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنی بائیں بازو کی نظریاتی شناخت کھو دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح ڈونلڈ ٹرمپ کے اثرات کا ذکر کیا جاتا ہے، اسی طرح نریندر مودی کیرالہ کے وزیراعلیٰ کو کنٹرول کرتے ہیں، جبکہ بدعنوانی بھی ایک بڑا عنصر ہے۔

کرناٹک کانگریس میں قیادت کی کشمکش نومبر 2025 میں اس وقت شروع ہوئی، جب حکومت نے اپنی پانچ سالہ مدت کا نصف مکمل کیا۔ موجودہ وزیراعلیٰ سدارامیا اور نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے علاوہ وزیرداخلہ جی پرمیشورا بھی اعلیٰ عہدے کی دوڑ میں شامل ہیں۔

یوا چیتنا کے سپریمو روہت کمار سنگھ نے اپوزیشن کے بہار بند کو مکمل ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ لالو پرساد یادو اور ان کے اتحاد کے ذریعہ بلایا گیا بہار بند ایک سپر فلاپ مظاہرہ تھا۔