پٹنہ: بہار کی سیاست میں ایک نئے باب کا آغاز ہوچکا ہے۔ سمراٹ چودھری نے ریاست کے 24ویں وزیر اعلیٰ کے طور پر عہدے اور رازداری کا حلف لیا ہے۔ سابق وزیراعلیٰ نتیش کمار کے استعفیٰ کے بعد اب ریاست میں ایک نئے سیاسی دور، یعنی ’’سمراٹ دور‘‘ کا آغاز ہو گیا ہے۔ پٹنہ کے لوک بھون میں منعقدہ حلف برداری تقریب میں گورنر سید عطاء حسنین نے سمراٹ چودھری کو عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔ یہ موقع اس لحاظ سے بھی غیر معمولی ہے کہ بہار کی 75 سالہ سیاسی تاریخ میں پہلی بار بی جے پی کا کوئی لیڈر وزیراعلیٰ کے عہدے پر فائز ہوا ہے۔
#WATCH | Patna, Bihar: Samrat Choudhary takes oath as the Chief Minister of Bihar
He becomes the first Bharatiya Janata Party (BJP) Chief Minister of Bihar following the resignation of Nitish Kumar. pic.twitter.com/ObDBH2RxJr
— ANI (@ANI) April 15, 2026
نائب وزرائے اعلیٰ کی تقرری
سمراٹ چودھری کے ساتھ جنتا دل (یونائیٹڈ) کے دو سینئر لیڈروں وجے کمار چودھری اور بجیندر پرساد یادو نے بھی عہدے کا حلف لیا اور انہیں نائب وزیراعلیٰ بنایا گیا۔ اس طرح ریاستی حکومت میں پہلی بار جے ڈی یو کوٹے سے بیک وقت دو نائب وزرائے اعلیٰ مقرر کیے گئے ہیں، جو سیاسی توازن کی ایک اہم مثال سمجھی جا رہی ہے۔ اس مرحلے پر صرف تین رہنماؤں نے حلف لیا ہے، جبکہ نئی این ڈی اے حکومت کی تشکیل کے باوجود کابینہ میں ابھی 33 وزارتی عہدے خالی ہیں۔ سیاسی ذرائع کے مطابق، آنے والے دنوں میں کابینہ میں توسیع متوقع ہے، جس کے بعد مختلف طبقات اور علاقوں کو نمائندگی دی جائے گی۔
#WATCH Patna, Bihar: Janata Dal (United) leader Bijendra Prasad Yadav takes oath as Deputy CM of Bihar pic.twitter.com/OhgshLUgbW
— ANI (@ANI) April 15, 2026
نتیش کمار کے دور کا خاتمہ
سمراٹ چودھری کی تقرری کے ساتھ ہی نتیش کمار کے ’’سُشاسن‘‘ یعنی بہتر حکمرانی کے طویل دور کا اختتام ہو گیا۔ نتیش کمار نے ایک دہائی سے زائد عرصے تک بہار کی قیادت کی اور 2025 میں این ڈی اے کی کامیابی کے بعد وہ دسویں بار وزیراعلیٰ بنے تھے۔ بعد ازاں انہوں نے راجیہ سبھا جانے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد قیادت کی ذمہ داری سمراٹ چودھری کو سونپی گئی۔
سمراٹ چودھری کا سیاسی سفر
57 سالہ سمراٹ چودھری کا سیاسی سفر خاصا دلچسپ رہا ہے۔ انہوں نے 1990 کی دہائی میں آر جے ڈی کے ساتھ سیاست کا آغاز کیا اور بعد میں 2018 میں بی جے پی میں شامل ہو گئے۔ ان کا تعلق ایک سیاسی خاندان سے ہے۔ ان کے والد شکنی چودھری چھ مرتبہ رکن اسمبلی رہ چکے ہیں، جبکہ ان کی والدہ پاروتی دیوی نے بھی 1998 میں اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔ سمراٹ چودھری کو 2023 میں بی جے پی کا ریاستی صدر بنایا گیا اور 2024 میں وہ نائب وزیراعلیٰ بنے۔ 2025 کے اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے کی کامیابی کے بعد وہ وزیراعلیٰ کے مضبوط دعویدار کے طور پر سامنے آئے۔ او بی سی طبقے خاص طور پر کوئری/کُشواہا برادری میں ان کی مضبوط پکڑ کو ان کی سیاسی طاقت کا اہم سبب مانا جاتا ہے۔
حلف برداری کی تقریب میں اہم لیڈروں کی شرکت
حلف برداری کی تقریب میں کئی سرکردہ سیاسی شخصیات نے شرکت کی، جن میں بی جے پی کے ریاستی صدر نتن نبین، مرکزی وزیر چراغ پاسوان، جے پی نڈا اور جیتن رام مانجھی شامل تھے۔ ان لیڈروں کی موجودگی نے تقریب کو مزید اہم اور باوقار بنا دیا۔ یہ تبدیلی اس وقت سامنے آئی جب نتیش کمار نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا، جس کے بعد این ڈی اے اتحاد نے سمراٹ چودھری کو اپنا قائد منتخب کیا۔ مبصرین کے مطابق، یہ فیصلہ بہار کی سیاست میں ایک نئی سمت کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں بی جے پی اب براہ راست قیادت کے کردار میں نظر آ رہی ہے۔ سمراٹ چودھری کی قیادت میں نئی حکومت سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ ریاست میں ترقی، گڈ گورننس اور عوامی فلاح کے لیے نئے اقدامات کرے گی۔ تاہم، کابینہ کی مکمل تشکیل اور پالیسیوں کے اعلان کے بعد ہی اس حکومت کی اصل سمت واضح ہو سکے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

