Bharat Express DD Free Dish

Samrat Choudhary

ملکارجن کھڑگے نے الزام لگایا کہ یا تو وزیر داخلہ امت شاہ ایوان میں آنے سے گریز کر رہے ہیں یا پھر وہ پارلیمنٹ کی توہین کرنا چاہتے ہیں، اسی لیے وہ ایوان میں حاضر نہیں ہو رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اہم معاملات پر حکومت کو جوابدہی سے نہیں بچنا چاہیے۔اس سے قبل بھی دن کے آغاز میں راجیہ سبھا کی کارروائی این ڈی اے اور اپوزیشن اراکین کے شدید ہنگامے کے باعث دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی گئی تھی،

اس سے قبل 5 جولائی کو بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے بھی اپنے پیش رو نتیش کمار سے ملاقات کی تھی۔ اس موقع پر دونوں لیڈروں کے درمیان ریاست کی موجودہ سیاسی صورتحال اور بہار اسمبلی کے مانسون اجلاس سے قبل مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

10 سرکولر روڈ واقع سرکاری بنگلہ طویل عرصے سے رابڑی دیوی کے زیر استعمال رہا ہے۔ نئی حکومت نے یہ رہائش گاہ ریاستی وزیر نند کشور رام کے نام الاٹ کر دی ہے۔

اوڈیشہ کے گورنر نے بھی سوشل میڈیا پر پیغام جاری کرتے ہوئے بھارت کے پہلے وزیر اعظم کو یاد کیا۔ بہار کے نائب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے لکھا کہ بھارت کے پہلے وزیر اعظم، آنجہانی جواہر لعل نہرو جی کو ان کی برسی پر خراجِ عقیدت۔

3 مئی 2026 کو منعقد ہونے والے نیٹ یوجی 2026 میں پیپر لیک اور بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے تھے، جس کے بعد معاملہ کافی سنگین ہو گیا تھا۔ ابتدائی تحقیقات میں امتحانی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھائے گئے، جس کے بعد امتحان منسوخ کرنے کا فیصلہ لیا گیا اور اب اسے نئے سرے سے منعقد کیا جائے گا۔

بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی قیادت میں تشکیل دی گئی 35 رکنی کابینہ میں صرف 5 خواتین کو شامل کیا گیا ہے، جو کل وزراء کی تعداد کا محض 14.28 فیصد بنتا ہے۔ ایسے میں خواتین کو مساوی سیاسی حصہ داری دینے کے دعووں پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔

فی الحال بہار حکومت صرف تین اہم چہروں کے سہارے چل رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری خود 29 محکمے سنبھال رہے ہیں، جب کہ نائب وزرائے اعلیٰ وجے چودھری اور بجیندر یادو بھی اہم ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔

روہنی آچاریہ نے کہا کہ لالو یادو کے ذریعے جیل بھیجے جانے کی بچکانہ بات کرتے ہوئے، پروپگنڈے کے سہارے وزیر اعلیٰ کی کرسی حاصل کرنے والے سمرت چودھری یہ بھول گئے کہ خود بی جے پی کے لوگ کہتے ہیں کہ قانونی اور عدالتی عمل ضابطے اور قانون کے مطابق چلتا ہے، کسی کے اشارے پر نہیں۔

تیجسوی یادو نے وزیر اعلیٰ کی عمر کو لے کر سوال اٹھایا اور کہا کہ مختلف حلف ناموں میں درج عمر میں فرق ہے، آخر کس کو درست مانا جائے۔ ان کی تقریر کے دوران حکمراں جماعت کے ارکان نے بار بار مداخلت کی، جس کے باعث ایوان میں شور شرابہ بھی دیکھنے کو ملا۔

سمراٹ چودھری نے کہا کہ ان کی حکومت کا اصل مقصد صرف ترقی ہے۔ انہوں نے صنعتی ترقی کو تیز کرنے، کسانوں کی آمدنی بڑھانے اور ریاست کو خوشحال بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کوسی ندی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسے اب آفت نہیں بلکہ نعمت بنانا ہے۔