رام نگر (کرناٹک): کرناٹک کانگریس کے ایم ایل اے اقبال حسین نے کہا ہے کہ پارٹی کے کم از کم 80 سے 90 ممبران اسمبلی نے ہائی کمان سے درخواست کی ہے کہ نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار کو وزیراعلیٰ بننے کا موقع دیا جائے۔ پیر کے روز اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے اقبال حسین نے کہا: ’’ہم نے فیصلہ ہائی کمان پر چھوڑ دیا ہے۔ 80 سے 90 ممبران اسمبلی نے ہائی کمان سے درخواست کی ہے کہ ڈی کے شیوکمار کو وزیراعلیٰ کے عہدے کا موقع دیا جائے۔ ہم ایک منظم اور باوقار پارٹی ہیں اور ہمیں شائستگی کے ساتھ برتاؤ کرنا چاہیے۔‘‘ اقبال حسین نے کانگریس ایم ایل سی یتندرا سدارامیا کے ان بیانات پر سخت ناراضگی ظاہر کی، جن میں وہ اپنے والد اور موجودہ وزیراعلیٰ سدارامیا کے حق میں بولتے نظر آئے۔ انہوں نے کہا: ’’ہمیں بار بار اپنے والد کے حق میں بول کر ہائی کمان کو شرمندہ کرنے کا انداز پسند نہیں۔ ہر باپ کو بیٹے سے اور ہر بیٹے کو باپ سے محبت ہوتی ہے، لیکن سیاست میں ہمیں نظم و ضبط کے ساتھ کام کرنا ہوتا ہے۔ اس طرح کے بیانات سے دوسروں کو اکسانا مناسب نہیں۔‘‘
ڈی کے شیوکمار کو موقع دینے کی خواہش
اقبال حسین نے مزید کہا: ’’ہم سب کے دل میں یہی خواہش ہے کہ ڈی کے شیوکمار کو اس مدت کار میں ہی موقع دیا جائے۔ سب یہی چاہتے ہیں، مگر کسی طرح کا کنفیوژن نہ ہو، اسی لیے اکثر لوگ خاموش ہیں۔ میں کھلے دل سے کہہ رہا ہوں کہ پہلے دن سے میری یہی خواہش ہے کہ ڈی کے شیوکمار کو اس مدت میں ہی وزیراعلیٰ بنایا جائے۔‘‘ کانگریس ایم ایل سی چنراج ہٹّی ہولی نے بھی کہا: ’’میری خواہش ہے کہ اس مدت کار میں جلد ہی ڈی کے شیوکمار وزیراعلیٰ بنیں۔‘‘
یتندرا سدارامیا کے بیان پر ردعمل
گزشتہ ہفتے یتندرا سدارامیا نے دعویٰ کیا تھا کہ کانگریس ہائی کمان نے سدارامیا کو پوری مدت کے لیے وزیراعلیٰ بنے رہنے کی گرین سگنل دے دی ہے۔ اس پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے ڈی کے شیوکمار نے کہا: ’’میں ان کی بات کو احترام کے ساتھ قبول کرتا ہوں۔ چونکہ انہوں نے خود کو ہائی کمان کی طرح پیش کیا ہے، اس لیے ہمیں انہیں اسی طرح قبول کر لینا چاہیے۔‘‘ کرناٹک کانگریس میں قیادت کی کشمکش نومبر 2025 میں اس وقت شروع ہوئی، جب حکومت نے اپنی پانچ سالہ مدت کا نصف مکمل کیا۔ موجودہ وزیراعلیٰ سدارامیا اور نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے علاوہ وزیرداخلہ جی پرمیشورا بھی اعلیٰ عہدے کی دوڑ میں شامل ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



