کولکاتا: مغربی بنگال اسمبلی نے پیر کو ’’مغربی بنگال عوامی تحفظ اور انسداد سماج دشمن سرگرمیاں بل، 2026‘‘ (Public Safety and Control of Anti-Social Activities Bill 2026) منظور کر لیا۔ بل کے حق میں 176 جبکہ مخالفت میں 41 ارکان نے ووٹ دیا۔ بل پر بحث کے دوران وزیراعلیٰ سویندو ادھیکاری نے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) اور سی پی آئی (ایم) دونوں پر سیاسی تشدد کو فروغ دینے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے قوانین مختلف ناموں سے مہاراشٹر، دہلی، اتر پردیش، کرناٹک، مدھیہ پردیش اور جھارکھنڈ سمیت کئی ریاستوں میں پہلے ہی نافذ کیے جا چکے ہیں۔ ادھیکاری نے کہا کہ ماضی میں سی پی آئی (ایم) نے مغربی بنگال کی سیاست میں ’’غنڈہ کلچر‘‘ کو فروغ دیا اور 2001 میں جمہوری عمل کو متاثر کرنے کے لیے مبینہ طور پر ’’ہرماد‘‘ گروپوں کا استعمال کیا۔ مغربی بنگال کی سیاست میں ’’ہرماد‘‘ کی اصطلاح تشدد کے مرتکب، غنڈوں، یا کرائے کے بدمعاشوں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
قانون کے غلط استعمال سے انکار، سخت کارروائی کا انتباہ
وزیراعلیٰ نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت اس قانون کا غلط استعمال نہیں کرے گی، تاہم عوامی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے ترنمول کانگریس پر الزام لگایا کہ اس نے مسلم برادری کو ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا اور انہیں مختلف معاملات پر احتجاج کے لیے اکسایا، جبکہ انہیں روزگار اور بنیادی سہولیات فراہم نہیں کیں۔ ادھیکاری نے کہا کہ این آر سی اور سی اے اے کو لے کر عوام کو گمراہ کیا گیا اور وقف سے متعلق احتجاج کے دوران آتش زنی کے واقعات پیش آئے۔ انہوں نے کہا کہ صرف گرفتاریاں ہی نہیں بلکہ قانون توڑنے والوں کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد بھی ضبط کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی اس قانون سے اتفاق نہیں رکھتا تو وہ ان ریاستوں میں احتجاج کرے جہاں انڈیا اتحاد کی حکومتیں ہیں۔
بل کی اہم دفعات اور حکومت کا موقف
نئے قانون کا مقصد عوامی تحفظ کو یقینی بنانا، امن و امان برقرار رکھنا اور منظم سماج دشمن سرگرمیوں پر مؤثر کنٹرول قائم کرنا ہے۔ بل کے مطابق ایسے افراد یا گروہوں کے خلاف کارروائی کی جا سکے گی جن کی سرگرمیوں سے عوام میں خوف و ہراس پھیلے، امن عامہ متاثر ہو، جان و مال کو خطرہ لاحق ہو یا قانونی تجارت اور کاروبار میں رکاوٹ پیدا ہو۔ غیر قانونی کان کنی، ریت کی غیر مجاز نکاسی اور جنگلاتی وسائل یا جنگلی حیات سے متعلق غیر قانونی سرگرمیوں کو بھی سماج دشمن سرگرمیوں میں شامل کیا گیا ہے۔ بل کی سب سے زیادہ زیرِ بحث شق احتیاطی حراست (Preventive Detention) ہے، جس کے تحت اگر ریاستی حکومت یا مجاز افسر کو یہ یقین ہو کہ کسی شخص کی سرگرمیاں عوامی تحفظ کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں تو اس کی پیشگی حراست کا حکم جاری کیا جا سکے گا۔ مخصوص حالات میں ضلع مجسٹریٹ اور پولیس کمشنر کو بھی ایسے احکامات جاری کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ قانون کے تحت اس ایکٹ کے تمام جرائم قابل دست اندازی پولیس (Cognizable) اور ناقابل ضمانت (Non-bailable) ہوں گے۔
ریاست میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کا وعدہ
بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ زیرِ حراست شخص کو مقررہ مدت کے اندر گرفتاری کی وجوہات سے آگاہ کیا جائے گا اور اسے اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا، تاہم عوامی مفاد کے پیشِ نظر بعض معلومات کو خفیہ رکھنے کا اختیار بھی حکام کے پاس ہوگا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ قوانین منظم سماج دشمن عناصر سے نمٹنے کے لیے ناکافی ثابت ہو رہے تھے، اس لیے جرائم کی منصوبہ بندی روکنے، مجرم عناصر کو سخت سزا دینے اور ریاست کو مؤثر قانونی اختیارات فراہم کرنے کے لیے یہ نیا قانون متعارف کرایا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سویندو ادھیکاری نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ ریاست میں یکساں سول کوڈ (UCC) نافذ کیا جائے گا، جیسا کہ گجرات، اتراکھنڈ اور آسام میں کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جو اپنی سفارشات اسمبلی میں پیش کرے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
