Bharat Express DD Free Dish

political debate

بی جے پی ترجمان نے کانگریس کی قیادت پر کیپٹن اسمت مچھار کی بہادری پر خاموشی اختیار کرنے کا الزام لگاتے ہوئے راہل گاندھی اور ملکارجن کھڑگے کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے راہل گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ غزہ کے معاملے پر انہوں نے متعدد مواقع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا، لیکن کیپٹن اسمت مچھار کے معاملے میں ان کی جانب سے ایک لفظ بھی نہیں کہا گیا۔

امت شاہ نے کہا کہ یہ فیصلہ محض علامتی نہیں ہے بلکہ ایک ایسی تاریخی غلطی کو دہرانا ہے جس نے ملک کی تقسیم میں کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے کہا ’’کل کانگریس ورکنگ کمیٹی نے ایک حیران کن اور ملک مخالف فیصلہ کیا۔ 1937 کی اپنی قرارداد کے تحت انہوں نے عظیم قومی گیت وندے ماترم کے صرف دو بند گانے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘

وزیر داخلہ امت شاہ کے مباحثے کی پیشکش پر اپوزیشن کا سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ راہل گاندھی نے مرکزی وزیر داخلہ پر پارلیمنٹ سے غیر حاضر رہنے کا الزام لگایا ہوئے کہا کہ  طلبہ پر مبینہ فائرنگ اور لاٹھی چارج کا حکم کس نے دیا؟

اویسی نے دہشت گردی کے معاملے پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آزاد ہندوستان کا پہلا دہشت گرد ناتھورام گوڈسے کسی مدرسے کا طالب علم نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ ایک آئینی عہدے پر فائز شخص اس قسم کی ’’زہریلی زبان‘‘ استعمال کرے۔ اویسی نے مزید کہا ’’جب کرسی نہ ہو تو اسٹول والوں کے پاس اپنی سیاسی اہمیت برقرار رکھنے کے لیے زہر اگلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔‘‘

مرکزی وزیر جے پی نڈا نے کہا کہ اپوزیشن بحث کے لیے وقت طے کرے، حکومت اس معاملے پر بحث کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہالزام تراشی نہیں، بلکہ حل پر بحث ہونی چاہیے۔ بحث کے بعد ہمیں ایک ٹھوس پالیسی لے کر آنی چاہیے۔ بچے ملک کا مستقبل ہیں۔ ملک کے مستقبل کی فکر کرنا حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری ہے۔

وزیراعظم مودی نے کہا ’’جہاں حقائق اور دلیل ہوتی ہے، وہاں طوفان کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ اگر دلیل مضبوط ہو تو پُرسکون ذہن سے بھی اپنی آواز کو بلند کیا جا سکتا ہے۔‘‘ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حقائق اور دلیل کے ساتھ ایوان کی بحث کو مزید بامعنی بنایا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہر آواز کو موقع ملنا چاہیے اور ہر خیال کا احترام ہونا چاہیے، یہی پارلیمنٹ میں ان کا کردار ہے۔

بل کے حق میں 176 اور مخالفت میں 41 ووٹ ڈالے گئے، ’’عوامی تحفظ اور انسداد سماج دشمن سرگرمیاں بل 2026‘‘ منظور کرانے کے بعد حکومت نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قانون سے منظم جرائم پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان نے نہ صرف داخلی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔ اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا یہ مطالبات محض سیاسی دباؤ تک محدود رہتے ہیں یا واقعی 25ویں ترمیم کے نفاذ کی جانب کوئی عملی قدم اٹھایا جاتا ہے۔

’’میرا بوتھ سب سے مضبوط‘‘ پروگرام میں وزیراعظم مودی نے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مضبوط جمہوری عمل کے لیے بوتھ سطح پر سرگرمی نہایت اہم ہوتی ہے، اور کارکنان کی محنت ہی پارٹی کی کامیابی کی بنیاد بنتی ہے۔

راہل گاندھی نے دہلی کے عوام سے اپیل کی کہ وہ اتحاد، بھائی چارہ اور محبت کو فروغ دیں اور کسی بھی اشتعال انگیزی کا شکار نہ ہوں۔  انہوں نے کہا: ’’ملک کی طاقت ہماری یکجہتی، بھائی چارے اور محبت میں ہے۔ جوڑو، جوڑو۔ بھارت جوڑو۔‘‘