Amit Shah attack on Congress: ’’خوشامد کی سیاست اب مزید نہیں چلے گی‘‘ وندے ماترم کی مکمل پیشکش کی مخالفت پر امت شاہ نے کانگریس کو بنایا نشانہ
امت شاہ نے کہا کہ یہ فیصلہ محض علامتی نہیں ہے بلکہ ایک ایسی تاریخی غلطی کو دہرانا ہے جس نے ملک کی تقسیم میں کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے کہا ’’کل کانگریس ورکنگ کمیٹی نے ایک حیران کن اور ملک مخالف فیصلہ کیا۔ 1937 کی اپنی قرارداد کے تحت انہوں نے عظیم قومی گیت وندے ماترم کے صرف دو بند گانے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘
Rahul on Amit Shah’s debate offer: امت شاہ کے لیکچر میں کوئی دلچسپی نہیں، طلبہ پر مبینہ پولیس کارروائی کا جواب چاہتی ہے اپوزیشن: راہل گاندھی
وزیر داخلہ امت شاہ کے مباحثے کی پیشکش پر اپوزیشن کا سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ راہل گاندھی نے مرکزی وزیر داخلہ پر پارلیمنٹ سے غیر حاضر رہنے کا الزام لگایا ہوئے کہا کہ طلبہ پر مبینہ فائرنگ اور لاٹھی چارج کا حکم کس نے دیا؟
Asaduddin Owaisi fires back at Keshav: ’’جن لوگوں کو انگریزوں سے محبت رہی ہو، وہ مدارس کو کیسے پسند کر سکتے ہیں‘‘ اسد الدین اویسی کا کیشو پرساد موریہ پر سخت حملہ
اویسی نے دہشت گردی کے معاملے پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آزاد ہندوستان کا پہلا دہشت گرد ناتھورام گوڈسے کسی مدرسے کا طالب علم نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ ایک آئینی عہدے پر فائز شخص اس قسم کی ’’زہریلی زبان‘‘ استعمال کرے۔ اویسی نے مزید کہا ’’جب کرسی نہ ہو تو اسٹول والوں کے پاس اپنی سیاسی اہمیت برقرار رکھنے کے لیے زہر اگلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔‘‘
Student Issues Should Not Be Politicized: راہل گاندھی کی پریس کانفرنس پر بی جے پی کا پلٹ وار، جے پی نڈا نے راہل گاندھی سے پوچھے سیدھے سوال کہا-’’طلبہ کے مسائل کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے‘‘
مرکزی وزیر جے پی نڈا نے کہا کہ اپوزیشن بحث کے لیے وقت طے کرے، حکومت اس معاملے پر بحث کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہالزام تراشی نہیں، بلکہ حل پر بحث ہونی چاہیے۔ بحث کے بعد ہمیں ایک ٹھوس پالیسی لے کر آنی چاہیے۔ بچے ملک کا مستقبل ہیں۔ ملک کے مستقبل کی فکر کرنا حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ذمہ داری ہے۔
Parliament’s Monsoon Session: ’’ہر آواز کو موقع اور ہر خیال کو احترام ملنا چاہیے، یہی پارلیمنٹ کا کردار ہے‘‘ مانسون اجلاس سے قبل وزیر اعظم نے بامعنی بحث ومباحثے پر دیا زور
وزیراعظم مودی نے کہا ’’جہاں حقائق اور دلیل ہوتی ہے، وہاں طوفان کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ اگر دلیل مضبوط ہو تو پُرسکون ذہن سے بھی اپنی آواز کو بلند کیا جا سکتا ہے۔‘‘ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حقائق اور دلیل کے ساتھ ایوان کی بحث کو مزید بامعنی بنایا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہر آواز کو موقع ملنا چاہیے اور ہر خیال کا احترام ہونا چاہیے، یہی پارلیمنٹ میں ان کا کردار ہے۔
Bengal Assembly: مغربی بنگال اسمبلی میں عوامی تحفظ سے متعلق نیا قانون منظور، قانون کے تحت حکومت کو احتیاطی حراست اور ضمانت نہ دینے کا ہوگا اختیار، ضلع مجسٹریٹ اور پولیس کمشنر کو بھی مخصوص اختیارات حاصل
بل کے حق میں 176 اور مخالفت میں 41 ووٹ ڈالے گئے، ’’عوامی تحفظ اور انسداد سماج دشمن سرگرمیاں بل 2026‘‘ منظور کرانے کے بعد حکومت نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قانون سے منظم جرائم پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
What Is the 25th Amendment: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف 25ویں ترمیم کے نفاذ کا مطالبہ تیز، ایران کے خلاف متنازع بیان کے بعد امریکی سیاست میں ہلچل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان نے نہ صرف داخلی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔ اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا یہ مطالبات محض سیاسی دباؤ تک محدود رہتے ہیں یا واقعی 25ویں ترمیم کے نفاذ کی جانب کوئی عملی قدم اٹھایا جاتا ہے۔
Kerala Elections: وزیراعظم مودی کی بوتھ صدر کی تعریف، کہا-’’آپ وائناڈ کی رکن پارلیمنٹ سے بہتر مباحثہ کریں گی‘‘
’’میرا بوتھ سب سے مضبوط‘‘ پروگرام میں وزیراعظم مودی نے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مضبوط جمہوری عمل کے لیے بوتھ سطح پر سرگرمی نہایت اہم ہوتی ہے، اور کارکنان کی محنت ہی پارٹی کی کامیابی کی بنیاد بنتی ہے۔
Uttam Nagar violence: ’’بی جے پی صرف خونریزی چاہتی ہے‘‘ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کا اتم نگر واقعے کے لیے بی جے پی پر تشدد بھڑکانے کا الزام
راہل گاندھی نے دہلی کے عوام سے اپیل کی کہ وہ اتحاد، بھائی چارہ اور محبت کو فروغ دیں اور کسی بھی اشتعال انگیزی کا شکار نہ ہوں۔ انہوں نے کہا: ’’ملک کی طاقت ہماری یکجہتی، بھائی چارے اور محبت میں ہے۔ جوڑو، جوڑو۔ بھارت جوڑو۔‘‘
West Asia crisis: مغربی ایشیا کے بحران کے باوجود شہریوں کو مشکلات سے بچانے کے لیے تمام تر کوششیں کررہی ہے مودی حکومت: نرملا سیتارمن
نرملا سیتارمن نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں تمام سیاسی جماعتوں کو پارٹی مفادات سے بالاتر ہو کر ملک کے مفاد میں حکومت کا ساتھ دینا چاہیے تاکہ عوام میں اعتماد اور امید پیدا کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کوشش کر رہے ہیں کہ ملک کے شہریوں کو کسی قسم کی پریشانی نہ ہو، لیکن اپوزیشن کے کچھ ارکان ایوان میں آ کر صرف نعرے بازی کر رہے ہیں، جو افسوسناک ہے۔





