Bharat Express DD Free Dish

West Asia crisis: مغربی ایشیا کے بحران کے باوجود شہریوں کو مشکلات سے بچانے کے لیے تمام تر کوششیں کررہی ہے مودی حکومت: نرملا سیتارمن

نرملا سیتارمن نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں تمام سیاسی جماعتوں کو پارٹی مفادات سے بالاتر ہو کر ملک کے مفاد میں حکومت کا ساتھ دینا چاہیے تاکہ عوام میں اعتماد اور امید پیدا کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کوشش کر رہے ہیں کہ ملک کے شہریوں کو کسی قسم کی پریشانی نہ ہو، لیکن اپوزیشن کے کچھ ارکان ایوان میں آ کر صرف نعرے بازی کر رہے ہیں، جو افسوسناک ہے۔

وزیر خزانہ نرملا سیتارمن۔ (فائل فوٹو)

نئی دہلی: مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے  گزشتہ دنوں لوک سبھا میں اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ایشیا کی صورتحال کے باعث پیدا ہونے والے چیلنجوں کے باوجود حکومت پوری کوشش کر رہی ہے کہ ملک کے شہریوں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے اپوزیشن پر الزام لگایا کہ وہ مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی فراہمی کے مسئلے پر نعرے بازی اور احتجاج کر کے غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کر رہی ہے، جب کہ قومی مفاد میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔ وزیر خزانہ نے مالی سال 2025-26 کے لیے ضمنی مطالباتِ زر پر بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت بیرونِ ملک ہونے والی پیش رفت، خاص طور پر مغربی ایشیا کے حالات، کے پیش نظر سپلائی چین میں ممکنہ رکاوٹوں اور ایل پی جی سے متعلق مسائل کا سامنا کرنے کے لیے تیاری کر رہی ہے۔  انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ جب وہ حکومت کی تیاریوں کے بارے میں بات کر رہی ہیں تو اپوزیشن ان کی بات سننے کے لیے بھی تیار نہیں اور اپنے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مصروف ہے۔

اپوزیشن کو قومی مفاد میں متحد ہونے کی اپیل

نرملا سیتارمن نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں تمام سیاسی جماعتوں کو پارٹی مفادات سے بالاتر ہو کر ملک کے مفاد میں حکومت کا ساتھ دینا چاہیے تاکہ عوام میں اعتماد اور امید پیدا کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کوشش کر رہے ہیں کہ ملک کے شہریوں کو کسی قسم کی پریشانی نہ ہو، لیکن اپوزیشن کے کچھ ارکان ایوان میں آ کر صرف نعرے بازی کر رہے ہیں، جو افسوسناک ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت غیر متوقع حالات سے نمٹنے کے لیے 50 ہزار کروڑ روپے کے مالیاتی بفر یا مساواتی فنڈ کے قیام پر بھی غور کر رہی ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر چائے پیتے ہوئے ایل پی جی کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں، جبکہ حکومت سنجیدگی سے مسائل کے حل پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی ایکٹ کے تحت پہلے ہی 95 ہزار کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی تھی جو یکم اپریل سے نافذ ہوگی، جبکہ ضمنی مطالباتِ زر کے تحت مزید 30 ہزار کروڑ روپے فراہم کیے گئے ہیں۔

کسانوں کے لیے سبسڈی اور مالی مدد

سیتارمن نے کہا کہ ضمنی مطالبات میں کسانوں کے لیے کھاد کی اضافی سبسڈی بھی شامل ہے۔ انہوں نے سماجوادی پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کے دورِ حکومت میں اتر پردیش کے گنا کاشتکاروں کو اپنی ادائیگیوں کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اب 9.3 کروڑ کسانوں کو ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر کے ذریعے براہِ راست مالی مدد مل رہی ہے۔ اسی طرح پردھان منتری غریب کلیان اَنّ یوجنا کے تحت تقریباً 12 لاکھ کروڑ روپے کی مالیت کی غذائی امداد غریبوں تک پہنچائی جا چکی ہے۔

حکومت کی ترقیاتی اسکیموں کا ذکر

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے وعدوں کو عملی جامہ پہنایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 13 کروڑ گھروں تک نل کے ذریعے پینے کا پانی پہنچایا گیا ہے۔ سوچھ بھارت مشن کے تحت 12 کروڑ سے زائد بیت الخلا تعمیر کیے گئے ہیں۔ دیہی اور شہری ہاؤسنگ اسکیموں کے تحت 4 کروڑ مکانات تعمیر کیے جا چکے ہیں۔ سیتارمن کے مطابق پہلے اور دوسرے ضمنی مطالباتِ زر کو ملا کر مجموعی رقم 4.13 لاکھ کروڑ روپے بنتی ہے، تاہم اس میں سے 1.71 لاکھ کروڑ روپے تکنیکی نوعیت کے ہیں جو مختلف مدات میں بچت یا اضافی وصولیوں کے ذریعے ایڈجسٹ کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2025-26 کے نظرِ ثانی شدہ تخمینے دراصل بجٹ تخمینوں سے کم ہیں اور دوسرے ضمنی مطالبات کے باوجود اخراجات بجٹ کے مقررہ ہدف سے زیادہ نہیں ہوں گے۔ بعد ازاں ایوان نے ضمنی مطالباتِ زر اور متعلقہ منظوری بل کو منظور کر لیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read