Bharat Express DD Free Dish

Nirmala Sitharaman

وزیر اعظم مودی نے اپنی مبارکباد میں کہا: ’’نرملا سیتارمن جی کو سالگرہ کی دلی مبارکباد۔ اصلاحات اور اقتصادی ترقی پر ان کی توجہ مضبوط اور خود کفیل بھارت کی ہماری کوششوں کو رفتار دے رہی ہے۔ میری دعا ہے کہ انہیں طویل اور صحت مند زندگی نصیب ہو۔‘‘

ہندوستانی بینکوں کو عالمی سطح پر مزید مضبوط بنانے کی سمت بڑا قدم، بینکنگ شعبے میں اصلاحات اور استحکام پر زور دیا۔

پی ایم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کا ایک مضمون شیئر کیا، جس میں بتایا گیا ہے کہ ’ون ڈسٹرکٹ، ون پروڈکٹ‘ پہل مقامی دستکاری کو بازار تک رسائی دلانے، پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرنے، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور بھارت کی عالمی مسابقت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

وزیرخزانہ نرملا سیتارمن نے کہا ہے کہ اس بحران کے باعث ایندھن کی لاگت بڑھ سکتی ہے، کارگو کی ترسیل میں تاخیر ہوسکتی ہے، شپنگ مہنگی ہوسکتی ہے، خام مال کی قلت پیدا ہوسکتی ہے، ورکنگ کیپیٹل پر دباؤ بڑھ سکتا ہے اور برآمدی آرڈرز میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔

حکام کے مطابق نئی نظام کے تحت طلبہ کو ادائیگی کے دوران پہلے کے مقابلے میں زیادہ محفوظ اور آسان تجربہ حاصل ہوگا۔ پیمنٹ فیل ہونے کے امکانات کم ہوں گے، ٹرانزیکشن کی رفتار بہتر ہوگی اور اگر کسی طالب علم سے اضافی رقم کٹ جائے تو اسے خودکار طریقے سے واپس کر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ سرور پر بوجھ بڑھنے کی صورت میں بھی پورٹل کی کارکردگی متاثر نہیں ہوگی۔

نرملا سیتارمن نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں تمام سیاسی جماعتوں کو پارٹی مفادات سے بالاتر ہو کر ملک کے مفاد میں حکومت کا ساتھ دینا چاہیے تاکہ عوام میں اعتماد اور امید پیدا کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کوشش کر رہے ہیں کہ ملک کے شہریوں کو کسی قسم کی پریشانی نہ ہو، لیکن اپوزیشن کے کچھ ارکان ایوان میں آ کر صرف نعرے بازی کر رہے ہیں، جو افسوسناک ہے۔

سماجوادی پارٹی کی رکنِ پارلیمنٹ پریا سروج نے کہا کہ اس بجٹ میں کسانوں کے مفادات کا خیال نہیں رکھا گیا۔ عام لوگوں کی فلاح و بہبود کی بات بھی اس میں نظر نہیں آتی۔

پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس 28 جنوری سے شروع ہوا ہے اور یہ دو مراحل میں منعقد کیا جائے گا۔ پہلا مرحلہ 13 فروری تک چلے گا، جبکہ دوسرا مرحلہ 9 مارچ سے 2 اپریل تک طے کیا گیا ہے۔

امریکی ٹیرف تنازعے سے پیدا ہونے والی عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر، برآمدات کو فروغ دینے اور غیر ملکی منڈیوں میں بھارت کی مسابقتی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔

ٹاٹا گروپ صرف ایک کاروباری گھرانہ نہیں، بلکہ وہ اعتماد کا نام ہے جسے ہر کوئی سو فیصد خالص مانتا آیا ہے۔ مگر اسی گروپ پر کنٹرول رکھنے والے ٹاٹا ٹرسٹس کے ٹرسٹیوں کے درمیان مفادات کے تصادم نے اس ادارے کو میڈیا کی سرخیوں میں پہنچا دیا ہے۔ اختیار حاصل کرنے کی خواہش سے شروع ہوئے اس تنازع نے صرف صنعتی دنیا ہی نہیں حکومت کو بھی پریشان کر دیا ہے۔ مانا یہ بھی جا رہا ہے کہ اگر معاملہ جلد نہ سلجھا تو حکومت بالواسطہ مداخلت کے ذریعہ یہاں عارضی منتظم بھی تعینات کر سکتی ہے۔