پی ایم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
نیویارک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’ریسپروکل ٹیرف‘ کی اپنی دھمکیوں کو دہراتے ہوئے ہندوستان پر آٹو پر 100 فیصد سے زیادہ ٹیرف عائد کرنے کا الزام لگایا۔ حالانکہ، ہندوستان نے سب سے زیادہ شرح کو کم کر کے 70 فیصد تک کر دیا ہے۔
امریکی صدر نے منگل کے روز کانگریس کے مشترکہ اجلاس میں اپنی پالیسیوں کا خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا، ’’ہندوستان آٹوز پر 100 فیصد سے زیادہ ٹیرف عائد کرتا ہے۔‘‘
حالانکہ، وزیر خزانہ نرملا سیتارامن نے گزشتہ ماہ اپنے بجٹ میں اعلان کیا تھا کہ لگژری کاروں پر ٹیرف کو 125 فیصد سے کم کر کے 70 فیصد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ہائی اینڈ موٹر سائیکلوں پر بھی ٹیرف کو 50 فیصد سے کم کر کے 40 فیصد کر دیا۔ وزیر تجارت پیوش گوئل امریکی حکام کے ساتھ ٹیرف پر بات چیت کے لیے واشنگٹن جائیں گے۔
ٹرمپ نے ٹیرف میں اضافے کے اپنے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا، ’’لاتعداد دوسرے ممالک ہم سے کہیں زیادہ ٹیرف وصول کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے اعلان کیا کہ ’’وہ ہم پر جو بھی ٹیرف لگائیں گے، ہم ان پر ٹیرف لگائیں گے۔‘‘
2 اپریل سے ہوگا ریسپروکل ٹیرف کا اطلاق
بتا دیں کہ ٹیرف اس ٹیکس کو کہا جاتا ہے جو ملک میں داخل ہونے والے سامان پر لگایا جاتا ہے، جو درآمد کی قیمت کے تناسب سے ہوتا ہے۔ جب ایک ملک دوسرے ملک سے درآمد شدہ سامان پر ٹیرف لگاتا ہے اور دوسرا ملک بھی اسی تناسب سے اس ملک کی مصنوعات پر ٹیرف لگاتا ہے تو اسے ریسپروکل ٹیرف کہا جاتا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ہماری مصنوعات پر چین کا اوسط ٹیرف ہماری مصنوعات سے دو گنا زیادہ ہے اور جنوبی کوریا کا اوسط ٹیرف چار گنا زیادہ ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر اس دن آئی جب کینیڈا اور میکسیکو سے درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف اور 10 فیصد اضافی ٹیرف نافذ ہوا۔
ٹیرف ’کچھ بدامنی‘ کا باعث بنیں گے: ٹرمپ
امریکی صدر نے تسلیم کیا کہ ٹیرف ’کچھ بدامنی‘ کا باعث بنیں گے لیکن انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس سے امریکہ مزید خوشحال ہوگا۔ ان کا مقصد ٹیرف کے اثرات کی تنقید سے خود کو بچانا تھا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


