Bharat Express DD Free Dish

TMC Criticism

بل کے حق میں 176 اور مخالفت میں 41 ووٹ ڈالے گئے، ’’عوامی تحفظ اور انسداد سماج دشمن سرگرمیاں بل 2026‘‘ منظور کرانے کے بعد حکومت نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قانون سے منظم جرائم پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

ایگزٹ پول کے بعد سیاسی بیانات میں تیزی آ گئی ہے، تاہم حتمی تصویر 4 مئی کو ووٹوں کی گنتی کے بعد ہی واضح ہوگی، جب یہ طے ہوگا کہ مغربی بنگال اور دیگر ریاستوں میں اقتدار کس کا قبضہ ہوگا۔

وزیراعظم مودی نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف ملیں بند ہو رہی ہیں، دوسری طرف دیسی بم بنانے کے کارخانے چل رہے ہیں، غنڈوں کو روزگار مل رہا ہے اور ٹی ایم سی کا سنڈیکیٹ پھیل رہا ہے۔ یہ ٹی ایم سی کا مہا جنگل راج ہے۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق شام 6 بجے تک مغربی بنگال میں 91.83 فیصد ووٹنگ درج کی گئی، جو غیر معمولی عوامی شرکت کو ظاہر کرتی ہے۔ سخت سکیورٹی کے درمیان ہونے والی اس پولنگ نے انتخابی عمل کو مزید اہم بنا دیا۔

وزیراعظم نے ٹی ایم سی پر بدعنوانی، کٹ منی اور سنڈیکیٹ راج کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی صرف اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہے، جبکہ بنگال کی ترقی رک گئی ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ آنے والے نتائج میں ریاست میں بڑی سیاسی تبدیلی دیکھنے کو ملے گی۔

وزیرداخلہ نے دعویٰ کیا کہ راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس کو تمل ناڈو، پڈوچیری، آسام اور مغربی بنگال میں بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ بنگال کے ووٹرز اب تبدیلی چاہتے ہیں اور بی جے پی ریاست میں ’’سونار بنگلہ‘‘ کا خواب پورا کرے گی۔

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات 23 اور 29 اپریل کو دو مرحلوں میں ہوں گے جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو ہوگی۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی مسلسل چوتھی بار اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جبکہ بی جے پی ریاست میں حکومت بنانے کے لیے پوری طاقت لگا رہی ہے۔

وزیرداخلہ نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت نے خواتین کے خلاف ہونے والے مظالم پر آنکھیں بند رکھیں اور خاص طور پر سندیش کھالی جیسے علاقوں میں خواتین کے استحصال کو نظرانداز کیا گیا۔ آرجی کر کیس کی متاثرہ خاتون کی والدہ رتنا دیبناتھ کو بی جے پی نے پانی ہاٹی سیٹ سے امیدوار بنایا ہے جس سے انتخابی سیاست میں ایک نیا موڑ آگیا ہے۔

وزیراعظم مودی کی یہ تقریر واضح طور پر انتخابی مہم کا حصہ ہے، جس میں انہوں نے قانون و انتظام، دراندازی اور عوامی سلامتی جیسے مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے ٹی ایم سی حکومت کو نشانہ بنایا۔ آنے والے انتخابات میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ عوام ان الزامات اور وعدوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اور ریاست کی سیاسی سمت کیا رخ اختیار کرتی ہے۔

وزیراعظم مودی نے مغربی بنگال کی معیشت کے ایک اہم شعبے یعنی ماہی گیری پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ بنگال میں مچھلی کی بہت زیادہ طلب ہونے کے باوجود ریاست خود کفیل نہیں بن سکی، جو کہ ایک بڑی ناکامی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ آج بھی بنگال کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے دیگر ریاستوں سے مچھلی درآمد کرنی پڑتی ہے، حالانکہ یہاں قدرتی وسائل اور مواقع وافر مقدار میں موجود ہیں۔