وزیراعظم نریندر مودی نے مغربی بنگال کے شہر ہلدیہ میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ٹی ایم سی کی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے ’’سنڈیکیٹ سے چلنے والی حکومت‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاست میں کوئی بھی ترقیاتی کام یا سرمایہ کاری ’’کٹ منی‘‘ اور کمیشن کے بغیر ممکن نہیں ہے، جس کے باعث صنعتی ترقی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ صنعتیں اعتماد پر چلتی ہیں، نہ کہ سنڈیکیٹ نظام پر اور یہی اعتماد صرف بی جے پی فراہم کر سکتی ہے۔ انہوں نے دیگر بی جے پی زیرِ اقتدار ریاستوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کی ترقی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر بنگال میں بھی بی جے پی کو موقع ملا تو ریاست میں اسی طرح کی ترقی ممکن ہے۔
نوجوانوں کے ساتھ دوہرے دھوکے کا الزام
مودی نے اپنی تقریر میں مغربی بنگال کے نوجوانوں کے مسائل کو خاص طور پر اجاگر کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ٹی ایم سی حکومت نے نوجوانوں کے ساتھ ’’دوہرا دھوکہ‘‘ کیا ہے۔ ایک طرف ریاست میں نجی شعبے میں روزگار کے مواقع کم ہیں اور دوسری طرف سرکاری نوکریوں میں بھی بدعنوانی اور بے ضابطگیاں پائی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو تھوڑی بہت نوکریاں موجود ہیں، وہ بھی مبینہ طور پر غیر قانونی دراندازوں کو دی جا رہی ہیں، جبکہ مقامی نوجوان بے روزگاری کا شکار ہیں۔ وزیراعظم کے مطابق، ریاستی حکومت کی یہ پالیسی نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ ناانصافی ہے اور آنے والے برسوں میں اس کے سنگین اثرات سامنے آئیں گے۔
ماہی گیری کے شعبے میں ناکامی پر تنقید
وزیراعظم مودی نے مغربی بنگال کی معیشت کے ایک اہم شعبے یعنی ماہی گیری پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ بنگال میں مچھلی کی بہت زیادہ طلب ہونے کے باوجود ریاست خود کفیل نہیں بن سکی، جو کہ ایک بڑی ناکامی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ آج بھی بنگال کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے دیگر ریاستوں سے مچھلی درآمد کرنی پڑتی ہے، حالانکہ یہاں قدرتی وسائل اور مواقع وافر مقدار میں موجود ہیں۔ ان کے مطابق، یہ صورتحال ٹی ایم سی حکومت کی ’غلط پالیسیوں‘ کا نتیجہ ہے۔
ریاستوں کی مثالیں اور مرکزی اسکیموں کا ذکر
وزیراعظم مودی نے اپنی تقریر میں بہار اور آسام کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان ریاستوں میں بی جے پی یا این ڈی اے حکومتوں کی پالیسیوں کے باعث مچھلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہار، جو پہلے مچھلی درآمد کرتا تھا، اب خود برآمد کرنے کے قابل ہو چکا ہے، جبکہ آسام نے بھی اسی طرح ترقی کی ہے۔ انہوں نے اس پیش رفت کا کریڈٹ پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا کو دیا، جس کے تحت ملک بھر میں ماہی گیری کے شعبے کو فروغ ملا ہے۔ تاہم، انہوں نے الزام لگایا کہ ٹی ایم سی حکومت صرف اس لیے اس اسکیم کو مؤثر طریقے سے نافذ نہیں کر رہی کیونکہ اس کے نام کے ساتھ “پی ایم” جڑا ہوا ہے۔ مودی نے اپنی تقریر کے اختتام پر دعویٰ کیا کہ اگر بی جے پی کو اقتدار ملا تو ریاست میں بدعنوانی کا خاتمہ، روزگار کے مواقع میں اضافہ اور معیشت کی بحالی ممکن ہو سکے گی اور بنگال ایک بار پھر ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

