Bharat Express DD Free Dish

political attack

کھڑگے نے وزیراعظم کے لہجے پر اعتراض کیا اور کہا کہ حکومت کے سربراہ کو سیاسی طعنوں کے بجائے بنیادی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا ’’وزیراعظم نریندر مودی کا واحد کام دوسروں پر طنز کرنا اور طنزیہ تبصرے کرنا رہ گیا ہے۔ پہلے عوام کے سامنے اپنی ساکھ ثابت کریں۔ آپ کا وہ ’56 انچ کا سینہ‘ کہاں گیا؟ آج آپ دوسروں پر تنقید کرتے ہیں، لیکن میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ نے ملک کے لیے آخر کیا کیا ہے؟‘‘

کانگریس امیدوار میناکشی نٹراجن کی نامزدگی مسترد ہونے پر سخت اعتراض کا اظہار کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ بی جے پی-الیکشن کمیشن کی ’’جگل بندی‘‘ نے مقابلہ شروع ہونے سے پہلے ہی ختم کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ مدھیہ پردیش میں میناکشی نٹراجن کی نامزدگی منسوخ ہونے کے بعد بی جے پی کے تین امیدوار رجنیش اگروال، ترون چُگ اور مہیش کیوٹ کے راجیہ سبھا میں بلا مقابلہ منتخب ہونے کی راہ تقریباً ہموار ہو گئی ہے۔

راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ ملک شدید معاشی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے، لیکن حکومت اس صورتحال کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے سوشل میڈیا ٹرینڈز اور ویڈیوز میں مصروف ہے۔

جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ گریٹ نکوبار پروجیکٹ دراصل ایک وسیع ’’موڈانی‘‘ کاروباری سلطنت کا حصہ بننے جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس منصوبے سے شدید ماحولیاتی اور انسانی نقصان ہوگا۔

پیر کے روز مغربی بنگال کی نئی بی جے پی حکومت نے ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر منوج کمار اگروال کو چیف سکریٹری مقرر کیا تھا۔ اسمبلی انتخابات سے قبل ترنمول کانگریس اور کانگریس مسلسل یہ الزام عائد کرتی رہی ہیں کہ الیکشن کمیشن مغربی بنگال میں بی جے پی کے اشاروں پر کام کر رہا ہے۔

امت شاہ نے ممتا بنرجی کے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا ریاست میں ’’غنڈوں کو عزت دی جانی چاہیے؟‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ ترنمول کانگریس (TMC) کی قیادت ایسے عناصر کو تحفظ فراہم کرتی ہے جو عوام کو پریشان کرتے ہیں۔ یہ بیان دراصل ممتا بنرجی کے اس اعلان کے بعد آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ امت شاہ کے ’’پرتشدد بیانات‘‘ کے خلاف قانونی کارروائی کریں گی اور بطور وزیر داخلہ انہیں ایسی زبان استعمال نہیں کرنی چاہیے۔

سواتی مالیوال نے دعویٰ کیا کہ وہ 2006 سے اروند کیجریوال کے ساتھ کام کر رہی تھیں، لیکن بعد میں انہیں پارٹی کے اندر ہراسانی اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز سواتی مالیوال اور راگھو چڈھا سمیت 7 راجیہ سبھا ممبروں نے عام آدمی پارٹی کو چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق شام 6 بجے تک مغربی بنگال میں 91.83 فیصد ووٹنگ درج کی گئی، جو غیر معمولی عوامی شرکت کو ظاہر کرتی ہے۔ سخت سکیورٹی کے درمیان ہونے والی اس پولنگ نے انتخابی عمل کو مزید اہم بنا دیا۔

وزیرداخلہ نے دعویٰ کیا کہ راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس کو تمل ناڈو، پڈوچیری، آسام اور مغربی بنگال میں بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ بنگال کے ووٹرز اب تبدیلی چاہتے ہیں اور بی جے پی ریاست میں ’’سونار بنگلہ‘‘ کا خواب پورا کرے گی۔

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب کانگریس صدر کھڑگے نے تمل ناڈو میں ایک انتخابی تقریر کے دوران مودی کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے، جس پر بی جے پی نے سخت اعتراض کرتے ہوئے معافی کا مطالبہ کیا اور معاملہ الیکشن کمیشن تک پہنچا دیا۔