Where did that 56-inch chest: ’وہ 56 انچ کا سینہ کہاں گیا؟ ملکارجن کھڑگے نے نیٹ، رام مندر ٹرسٹ اور ’طنزیہ تبصروں‘ پر وزیراعظم مودی کو گھیرا
کھڑگے نے وزیراعظم کے لہجے پر اعتراض کیا اور کہا کہ حکومت کے سربراہ کو سیاسی طعنوں کے بجائے بنیادی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا ’’وزیراعظم نریندر مودی کا واحد کام دوسروں پر طنز کرنا اور طنزیہ تبصرے کرنا رہ گیا ہے۔ پہلے عوام کے سامنے اپنی ساکھ ثابت کریں۔ آپ کا وہ ’56 انچ کا سینہ‘ کہاں گیا؟ آج آپ دوسروں پر تنقید کرتے ہیں، لیکن میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ نے ملک کے لیے آخر کیا کیا ہے؟‘‘
Seat Chori Allegation: ’ووٹ چوری‘ اور ’سرکار چوری‘ کے بعد اب ’سیٹ چوری‘، راہل گاندھی کا بی جے پی اور الیکشن کمیشن پر سخت حملہ
کانگریس امیدوار میناکشی نٹراجن کی نامزدگی مسترد ہونے پر سخت اعتراض کا اظہار کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ بی جے پی-الیکشن کمیشن کی ’’جگل بندی‘‘ نے مقابلہ شروع ہونے سے پہلے ہی ختم کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ مدھیہ پردیش میں میناکشی نٹراجن کی نامزدگی منسوخ ہونے کے بعد بی جے پی کے تین امیدوار رجنیش اگروال، ترون چُگ اور مہیش کیوٹ کے راجیہ سبھا میں بلا مقابلہ منتخب ہونے کی راہ تقریباً ہموار ہو گئی ہے۔
Rahul Gandhi slams PM Modi: ’’معاشی مسائل سے پریشان ملک کا وزیراعظم اٹلی میں مٹھائیاں تقسیم کرنے میں مصروف‘‘ میلوڈی تحفے پر راہل گاندھی کا طنز
راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ ملک شدید معاشی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے، لیکن حکومت اس صورتحال کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے سوشل میڈیا ٹرینڈز اور ویڈیوز میں مصروف ہے۔
Great Nicobar Island Project: ’’موڈانی کاروباری سلطنت کا حصہ بننے جا رہا ہے گریٹ نکوبار پروجیکٹ‘‘ کانگریس کا مودی حکومت پر ماحولیاتی تباہی پھیلانے کا الزام
جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ گریٹ نکوبار پروجیکٹ دراصل ایک وسیع ’’موڈانی‘‘ کاروباری سلطنت کا حصہ بننے جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس منصوبے سے شدید ماحولیاتی اور انسانی نقصان ہوگا۔
BJP-EC’s chor bazaar: بی جے پی اور الیکشن کمیشن کی ملی بھگت کا الزام، منوج اگروال کو چیف سکریٹری بنائے جانے پر راہل گاندھی کا سخت ردعمل
پیر کے روز مغربی بنگال کی نئی بی جے پی حکومت نے ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر منوج کمار اگروال کو چیف سکریٹری مقرر کیا تھا۔ اسمبلی انتخابات سے قبل ترنمول کانگریس اور کانگریس مسلسل یہ الزام عائد کرتی رہی ہیں کہ الیکشن کمیشن مغربی بنگال میں بی جے پی کے اشاروں پر کام کر رہا ہے۔
Amit Shah hits back over Mamata: وزیراعلیٰ ممتابنرجی کے ذریعہ قانونی کارروائی کی دھمکی پر وزیرداخلہ امت شاہ کا سخت ردعمل
امت شاہ نے ممتا بنرجی کے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا ریاست میں ’’غنڈوں کو عزت دی جانی چاہیے؟‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ ترنمول کانگریس (TMC) کی قیادت ایسے عناصر کو تحفظ فراہم کرتی ہے جو عوام کو پریشان کرتے ہیں۔ یہ بیان دراصل ممتا بنرجی کے اس اعلان کے بعد آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ امت شاہ کے ’’پرتشدد بیانات‘‘ کے خلاف قانونی کارروائی کریں گی اور بطور وزیر داخلہ انہیں ایسی زبان استعمال نہیں کرنی چاہیے۔
Swati slams Kejriwal: سواتی مالیوال نے کیجریوال کو ’’خواتین مخالف، بدعنوان اور غنڈہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کی سخت تنقید، وزیراعظم مودی اور امت شاہ پر جتایا بھروسہ
سواتی مالیوال نے دعویٰ کیا کہ وہ 2006 سے اروند کیجریوال کے ساتھ کام کر رہی تھیں، لیکن بعد میں انہیں پارٹی کے اندر ہراسانی اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز سواتی مالیوال اور راگھو چڈھا سمیت 7 راجیہ سبھا ممبروں نے عام آدمی پارٹی کو چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔
Sun of TMC’s corruption: وزیرداخلہ امت شاہ کا ترنمول کانگریس پر حملہ تیز، کہا-’’ٹی ایم سی کی بدعنوانی اور غنڈہ گردی کا سورج غروب ہوچکا‘‘
الیکشن کمیشن آف انڈیا کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق شام 6 بجے تک مغربی بنگال میں 91.83 فیصد ووٹنگ درج کی گئی، جو غیر معمولی عوامی شرکت کو ظاہر کرتی ہے۔ سخت سکیورٹی کے درمیان ہونے والی اس پولنگ نے انتخابی عمل کو مزید اہم بنا دیا۔
West Bengal Elections: ’’مغربی بنگال میں کانگریس کا کھاتہ بھی نہیں کھلے گا، ’دیدی‘ کی حالت مزید خراب ہوگی‘‘ وزیرداخلہ امت شاہ کی بی جے پی حکومت بنانے کی اپیل
وزیرداخلہ نے دعویٰ کیا کہ راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس کو تمل ناڈو، پڈوچیری، آسام اور مغربی بنگال میں بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ بنگال کے ووٹرز اب تبدیلی چاہتے ہیں اور بی جے پی ریاست میں ’’سونار بنگلہ‘‘ کا خواب پورا کرے گی۔
Congress President’s remark: ’’راہل بابا کی قربت نے ملکارجن کھڑگے کی زبان بھی خراب کر دی‘‘ وزیرداخلہ امت شاہ کا کانگریس پر سخت حملہ
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب کانگریس صدر کھڑگے نے تمل ناڈو میں ایک انتخابی تقریر کے دوران مودی کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے، جس پر بی جے پی نے سخت اعتراض کرتے ہوئے معافی کا مطالبہ کیا اور معاملہ الیکشن کمیشن تک پہنچا دیا۔





