مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ہفتہ کے روز مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کی جانب سے ان کے خلاف قانونی مقدمہ دائر کرنے کے اعلان پر سخت ردعمل دیا۔ کولکاتا کے ٹولی گنج علاقے میں روڈ شو کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ممتا بنرجی عدالتوں میں بار بار ہارتی رہی ہیں اور آئندہ بھی ایسا ہی ہوگا۔ ان کے مطابق، اصل فیصلہ عوام کریں گے، خاص طور پر 29 اپریل کو ہونے والے ووٹنگ کے دن۔ امت شاہ نے ممتا بنرجی کے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا ریاست میں ’’غنڈوں کو عزت دی جانی چاہیے؟‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ ترنمول کانگریس (TMC) کی قیادت ایسے عناصر کو تحفظ فراہم کرتی ہے جو عوام کو پریشان کرتے ہیں۔ یہ بیان دراصل ممتا بنرجی کے اس اعلان کے بعد آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ امت شاہ کے ’’پرتشدد بیانات‘‘ کے خلاف قانونی کارروائی کریں گی اور بطور وزیر داخلہ انہیں ایسی زبان استعمال نہیں کرنی چاہیے۔
قانون و نظم اور خواتین کے تحفظ کا مسئلہ
تنازع اس وقت بڑھا جب امت شاہ نے ایک ریلی میں مبینہ طور پر خبردار کیا تھا کہ اگر 29 اپریل کو ووٹنگ کے دوران لوگوں کو تنگ کیا گیا تو بعد میں ’’سخت کارروائی‘‘ کی جائے گی۔ ممتا بنرجی نے اس بیان کو غیر مناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی زبان سے بی جے پی کبھی بنگال میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اپنے خطاب میں امت شاہ نے مغربی بنگال میں امن و امان کی صورتحال پر بھی سوال اٹھایا اور الزام لگایا کہ ریاست میں خواتین محفوظ نہیں ہیں۔ انہوں نے مختلف واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت خواتین کے تحفظ میں ناکام رہی ہے، جبکہ بی جے پی اقتدار میں آنے کے بعد صورتحال بہتر بنانے کا دعویٰ کر رہی ہے۔
انتخابی پس منظر اور سیاسی کشیدگی
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات جاری ہیں۔ پہلے مرحلے میں ریکارڈ ووٹنگ درج کی گئی، جبکہ دوسرے مرحلے کی پولنگ 29 اپریل کو ہوگی اور ووٹوں کی گنتی مئی کے اوائل میں کی جائے گی۔ انتخابی ماحول میں بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے درمیان زبانی جنگ تیز ہو گئی ہے، جس سے سیاسی درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ بنگال کے انتخابات صرف ووٹنگ تک محدود نہیں بلکہ شدید سیاسی بیانیے اور الزامات کی جنگ میں بھی تبدیل ہو چکے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

