نئی دہلی: لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے منگل کو مغربی بنگال کی نومنتخب بی جے پی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر منوج کمار اگروال کو چیف سکریٹری مقرر کیے جانے پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے ایک بار پھر بھارتیہ جنتا پارٹی اور الیکشن کمیشن کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کا الزام عائد کیا۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’’بی جے پی-ای سی کے ’چور بازار‘ میں جتنی بڑی چوری اتنا بڑا انعام۔‘‘
منوج اگروال کو چیف سکریٹری مقرر کیے جانے پر تنازع
واضح رہے کہ پیر کے روز مغربی بنگال کی نئی بی جے پی حکومت نے ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر منوج کمار اگروال کو چیف سکریٹری مقرر کیا تھا۔ ریاستی حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ گورنر نے منوج کمار اگروال (آئی اے ایس، 1990 بیچ) کو اگلے احکامات تک مغربی بنگال کا چیف سکریٹری مقرر کرنے کی منظوری دی ہے۔ اسمبلی انتخابات سے قبل ترنمول کانگریس اور کانگریس مسلسل یہ الزام لگاتی رہی تھیں کہ الیکشن کمیشن مغربی بنگال میں بی جے پی کے اشاروں پر کام کر رہا ہے۔ انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) کو لے کر ترنمول کانگریس اور الیکشن کمیشن کے درمیان کشیدگی بھی خبروں میں رہی تھی۔ انتخابی نتائج کے بعد افسران کی موجودہ حکومت میں تعیناتی اپوزیشن کے دعوے کو مضبوطی فراہم کررہی ہے۔
مغربی بنگال میں بی جے پی کی بڑی جیت
سال 2026 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے 294 رکنی اسمبلی میں 206 نشستیں جیت لیں، جو ریاست کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی سمجھی جا رہی ہے۔ اس سے قبل بی جے پی کے پاس 77 نشستیں تھیں۔ دوسری جانب ممتابنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس 80 نشستوں تک محدود ہوگئی، جس کے ساتھ ہی ریاست میں اس کی 15 سالہ حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ کانگریس صرف دو نشستیں حاصل کرسکی۔ بی جے پی کی کامیابی کے بعد سوویندو ادھیکاری نے مغربی بنگال کے نویں وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیا۔ کولکاتا میں منعقدہ تقریبِ حلف برداری میں وزیراعظم مودی، وزیرداخلہ امت شاہ سمیت مرکزی وزراء اور بی جے پی کے کئی سینئر رہنما موجود تھے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


