Urdu Conclave 2026

Great Nicobar Island Project: ’’موڈانی کاروباری سلطنت کا حصہ بننے جا رہا ہے گریٹ نکوبار پروجیکٹ‘‘ کانگریس کا مودی حکومت پر ماحولیاتی تباہی پھیلانے کا الزام

جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ گریٹ نکوبار پروجیکٹ دراصل ایک وسیع ’’موڈانی‘‘ کاروباری سلطنت کا حصہ بننے جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس منصوبے سے شدید ماحولیاتی اور انسانی نقصان ہوگا۔

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے بدھ کے روز مرکزی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ گریٹ نکوبار آئی لینڈ پروجیکٹ پر اٹھنے والے سوالات کو دبانے کے لیے ایک ’’پروپیگنڈا مہم‘‘ چلا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان لوگوں کو ’’چین نواز‘‘ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو اس پروجیکٹ سے ہونے والی ماحولیاتی اور انسانی تباہی پر تشویش ظاہر کر رہے ہیں۔ جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا: ’’مودی حکومت اپنے پورے ایکو سسٹم کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ گریٹ نکوبار پروجیکٹ کے ماحولیاتی نقصانات پر سوال اٹھانے والے لوگ چین کے نرم حامی ہیں۔ یہ انتہائی منافقت ہے، کیونکہ یہی حکومت چین کے سامنے ’4C پالیسی‘ یعنی Continuing, Calibrated Capitulation to China پر عمل کر رہی ہے۔‘‘

لداخ، گلوان اور چین سے تجارتی خسارے پر بھی حملہ

جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ مودی حکومت نے چین کے ساتھ مذاکرات میں بھارت کی پوزیشن کمزور کی ہے۔ انہوں نے 2020 کے گلوان تصادم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے 19 جون 2020 کو چین کو ’’کلین چٹ‘‘ دے دی تھی، جو لداخ میں شہید ہونے والے 20 بھارتی جوانوں کی توہین تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے لداخ کے کئی علاقوں میں روایتی گشت کے حقوق سے بھی دستبرداری اختیار کی۔ جے رام رمیش کے مطابق 2025-26 میں چین کے ساتھ بھارت کا تجارتی خسارہ تقریباً 115 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جس سے بھارتی صنعتوں، خاص طور پر ایم ایس ایم ای سیکٹر کو نقصان ہوا۔

’’آپریشن سندور‘‘ میں چین کے کردار پر خاموشی کا الزام

کانگریس رہنما نے دعویٰ کیا کہ مئی 2025 میں ہونے والے ’’آپریشن سندور‘‘ کے دوران پاکستان کی مدد میں چین کے کردار سے متعلق فوجی افسران کے انکشافات پر بھی حکومت خاموش رہی۔ انہوں نے کہا:  ’’سینئر فوجی افسران نے چین کے کردار کے بارے میں اہم انکشافات کیے، لیکن وزیر اعظم نے اس پر کچھ نہیں کیا۔‘‘ انہوں نے گریٹ نکوبار پروجیکٹ کے اسٹریٹجک پہلو پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مجوزہ ٹرانس شپمنٹ پورٹ میں فوجی انفراسٹرکچر شامل نہیں ہے، جبکہ آئی این ایس باز اور انڈمان و نکوبار کمانڈ کے دیگر مقامات پر دفاعی ڈھانچہ مضبوط بنانے کی تجاویز کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

حکومت کا جواب، منصوبہ قومی سلامتی اور تجارت کے لیے اہم

جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ گریٹ نکوبار پروجیکٹ دراصل ایک وسیع ’’موڈانی‘‘ کاروباری سلطنت کا حصہ بننے جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس منصوبے سے شدید ماحولیاتی اور انسانی نقصان ہوگا۔  دوسری جانب مرکزی حکومت نے حال ہی میں اس منصوبے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ گریٹ نکوبار پروجیکٹ ایک اہم اسٹریٹجک اور اقتصادی اقدام ہے، جس کا مقصد جزیرے کو ایک بڑے سمندری مرکز کے طور پر ترقی دینا ہے۔ حکومت کے مطابق یہ منصوبہ مشرقی اور مغربی بحری تجارتی راستوں کے قریب واقع جزیرے کی جغرافیائی اہمیت سے فائدہ اٹھانے، غیر ملکی ٹرانس شپمنٹ بندرگاہوں پر انحصار کم کرنے اور قومی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس پروجیکٹ میں 14.2 ملین ٹی ای یو صلاحیت والا بین الاقوامی کنٹینر ٹرانس شپمنٹ ٹرمینل، گرین فیلڈ انٹرنیشنل ایئرپورٹ، 450 ایم وی اے گیس-سولر پاور پلانٹ اور ایک نیا ٹاؤن شپ شامل ہے۔ مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ منصوبہ ماحولیاتی قوانین کے مطابق ہے اور جزیرے کے صرف 1.82 فیصد جنگلاتی رقبے کو متاثر کیا جائے گا، جبکہ متبادل شجرکاری بھی کی جائے گی۔ حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ شومپن اور نکوباری قبائل کی بے دخلی کا کوئی منصوبہ نہیں ہے اور ان کی فلاح و بہبود کو ترجیح دی جائے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read