Aravali Ecosystem: سپریم کورٹ کی قائم کردہ اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کی تشکیل پر کانگریس نے اٹھائے سوال، کہا-’’اراولی کی نئی تعریف کا کوئی جواز نہیں‘‘
کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے اراولی پہاڑی سلسلے کی نئی تعریف کے معاملے پر سپریم کورٹ کی جانب سے قائم کی گئی پانچ رکنی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیٹی میں زیادہ تر موجودہ یا سابق سرکاری افسران شامل ہیں، جس سے اس کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھتے ہیں۔
Ram Mandir Funds Theft: رام مندر چندہ چوری ،مودی جی اور ان کے ساتھیوں کا صرف ایک ہی خواب ہےرام نام جپنا، پرایا مال اپنا- جے رام رمیش
جے رام رمیش نے مزید کہا کہ کانگریس لیڈروں کو رام مندر جانے سے روکنا اور انہیں مبینہ طور پر نظر بند کرنا انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ ان کے مطابق حکومت آمریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپوزیشن کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔کانگریس کے جنرل سکریٹری نے الزام لگایا کہ ملک کے عوام اس معاملے میں فوری اور سخت کارروائی چاہتے ہیں،
Pakistan Role in US-Iran Deal: ’یہ بھارت کے لیے…‘ امریکہ-ایران معاہدے پر کانگریس کا پہلا ردعمل، حکومت پر طنز کرتے ہوئے کیا کہا؟
امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے بعد کانگریس نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کو نشانے پر لیا ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ اس معاہدے میں پاکستان کی ثالثی اس بات کا اشارہ ہے کہ عالمی سفارت کاری میں اس کا کردار بڑھ رہا ہے، جو بھارت کے لیے تشویش کا موضوع ہونا چاہیے۔
INDIA bloc Meeting in Delhi Today: دہلی میں آج ’انڈیا‘ بلاک کا اہم اجلاس، مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف اپوزیشن کے اتحاد پر زور
کانسٹی ٹیوشن کلب میں ہونے والے ’انڈیا‘ بلاک کے اجلاس کو اپوزیشن کی یکجہتی کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب اتحاد میں شامل جماعتیں مرکزی حکومت کے خلاف اپنے تعاون اور باہمی تال میل کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
Great Nicobar Island Project: ’’موڈانی کاروباری سلطنت کا حصہ بننے جا رہا ہے گریٹ نکوبار پروجیکٹ‘‘ کانگریس کا مودی حکومت پر ماحولیاتی تباہی پھیلانے کا الزام
جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ گریٹ نکوبار پروجیکٹ دراصل ایک وسیع ’’موڈانی‘‘ کاروباری سلطنت کا حصہ بننے جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس منصوبے سے شدید ماحولیاتی اور انسانی نقصان ہوگا۔
Caste Census: ’’ذات پر مبنی مردم شماری کی تفصیلات اب تک واضح نہیں، اپوزیشن سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی‘‘ کانگریس کا مرکزی حکومت پر بڑا الزام
جے رام رمیش نے پرانے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2021 میں حکومت نے عدالت میں حلف نامہ دے کر ذاتی مردم شماری کی مخالفت کی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے ایک انٹرویو میں ذاتی مردم شماری کے مطالبے کو ’’اربن نکسل‘‘ سوچ قرار دیا تھا، جس پر اب انہیں کانگریس سے معافی مانگنی چاہیے۔
BJP washing machine is back: ’’بی جے پی کی واشنگ مشین واپس آگئی‘‘ عام آدمی پارٹی کے ممبران کے بی جے پی میں شامل ہونے پر جے رام رمیش کا طنز
یہ معاملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک کی سیاست میں پارٹی بدلنے کا رجحان ایک بار پھر زور پکڑ رہا ہے، جس پر مختلف سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر شدید الزامات عائد کر رہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے کے قانونی اور سیاسی اثرات مزید واضح ہونے کا امکان ہے۔
Jairam Ramesh Takes a Dig at Foreign Policy: خارجہ پالیسی پر جے رام رمیش کا طنز، کہا- چابہار پروجیکٹ کو نیا بتا کر پیش کر رہی ہے بی جے پی حکومت
سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے کہا کہ اکتوبر 2014 میں بی جے پی کی قیادت والی حکومت نے اپنی پرانی روایت کے مطابق ڈاکٹر منموہن سنگھ کی چابہار پہل کو نئے انداز میں پیش کیا اور اسے وزیر اعظم نریندر مودی کے وژن کا حصہ بتایا۔
India-Israel Relations: جے رام رمیش نے وزیراعظم مودی کے دورۂ اسرائیل کو ’منافقانہ اور موقع پرستانہ‘ قرار دیا، فلسطین سے متعلق حکومت کے موقف پر سوال
جے رام رمیش نے کہا کہ بھارت ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے 18 نومبر 1988 کو ریاست فلسطین کو تسلیم کیا تھا اور الزام لگایا کہ موجودہ حکومت نے اس تاریخی ورثے کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت فلسطینی کاز سے وابستگی کے حوالے سے بیانات تو دیتی ہے، لیکن عملی طور پر اسے ترک کر چکی ہے۔
Jairam Ramesh on GDP figures: ’’انفلیشن ایڈجسٹڈ جی ڈی پی کے اعداد و شمار گمراہ کن…ملک کی حقیقی اقتصادی تصویر چھپا رہی ہے سرکار…‘‘، کانگریس نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اٹھائے سوال
جے رام رمیش نے کہا کہ آنے والے مرکزی بجٹ کو اس سوال کا براہِ راست جواب دینا چاہیے کہ کمپنیاں پیداوار بڑھانے میں سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مالیاتی منڈیوں میں اثاثہ جات کے انتظام پر زیادہ توجہ کیوں دے رہی ہیں۔ ان کے مطابق ملک کے سرمایہ کاری ماحول کو ایک بڑے “بوسٹر ڈوز” کی ضرورت ہے۔





