کانگریس کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن جے رام رمیش نے امریکہ میں ہندوستانی طلبہ کے خلاف سخت امیگریشن کارروائیوں پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی امیگریشن لائرز ایسوسی ایشن (اے آئی ایل اے) کی رپورٹ کے مطابق، جن 327 بین الاقوامی طلبہ کے ویزے منسوخ کیے گئے، ان میں سے نصف کا تعلق ہندوستان سے ہے، جو باعث تشویش ہے۔
A press statement issued yesterday by the American Immigration Lawyers Association is cause for concern to us in India.
Out of the 327 visa revocation cases of international students collected by the organisation so far, 50% are Indians. The reasons for revocation are random… pic.twitter.com/dZfKJdiirR
— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) April 18, 2025
طلبہ کے تحفظ کے لیے ہر ممکن سفارتی قدم اٹھانے کا مطالبہ
جے رام رمیش نے کہا کہ ’’اے آئی ایل اے کی رپورٹ ہندوستانی طلبہ کے مستقبل پر سنگین سوالات کھڑے کرتی ہے۔ اگر ان طلبہ کے ویزا کی منسوخی کی وجوہات واضح، منصفانہ اور شفاف نہیں ہیں تو حکومت ہند کو فوری طور پر اس معاملے کو امریکی حکام کے ساتھ اٹھانا چاہیے۔‘‘ جے رام رمیش نے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر سے مطالبہ کیا کہ وہ اس رپورٹ کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور ان طلبہ کے تحفظ کے لیے ہر ممکن سفارتی قدم اٹھائیں۔
مختلف معاملوں میں ویزا منسوخی کی وجہ انتہائی معمولی
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اے آئی ایل اے نے اپنی ایک تفصیلی پالیسی بریف میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ میں جاری ’کیچ اینڈ ریووک‘ نامی پروگرام کے تحت بڑی تعداد میں بین الاقوامی طلبہ کے ویزے بغیر مناسب بنیاد کے منسوخ کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 20 جنوری 2025 کے بعد سے اب تک 4,736 ایس ای وی آئی ایس ریکارڈز منسوخ کیے جا چکے ہیں، جن میں اکثریت ایف-1 ویزا رکھنے والے طلبہ کی ہے۔ اے آئی ایل اے کا کہنا ہے کہ ان طلبہ میں سے بیشتر او پی ٹی (آپشنل پریکٹیکل ٹریننگ) پروگرام کا حصہ تھے۔ رپورٹ کے مطابق، کئی کیسز میں ویزا منسوخی کی وجہ انتہائی معمولی قانونی خلاف ورزیاں یا محض الزامات بنیں، جن کا بعد میں کوئی ثبوت نہیں ملا۔
حکومت طلبا کے قانونی حق کا احترام کرے
مثال کے طور پر، کچھ طلبہ کے خلاف صرف اس لیے کارروائی کی گئی کہ ان کے سوشل میڈیا یا مقامی پولیس ریکارڈ میں ان کا ذکر تھا، حالانکہ ان پر کوئی باضابطہ الزام یا مقدمہ درج نہیں تھا۔ بعض کیسز میں تو گھریلو تشدد کا شکار ہونے والے طلبہ کو بھی نشانہ بنایا گیا، جو خود متاثرہ لیکن بعد میں ان کا ویزا منسوخ کر دیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امیگریشن حکام بسا اوقات مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی سسٹمز کی مدد سے فیصلہ کرتے ہیں، جس سے انسانی پہلو نظر انداز ہو جاتا ہے۔ 57 فیصد طلبہ کو ویزا منسوخی کا باقاعدہ نوٹس دیا گیا، جب کہ دیگر کو اچانک مطلع کیا گیا یا بالکل نہیں بتایا گیا۔ اے آئی ایل اے نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں شفافیت برتے، طلبہ کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کا معقول جواز فراہم کرے اور ان کے قانونی حقوق کا احترام کرے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

