Bharat Express DD Free Dish

Waqf Amendment Bill: کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے وقف ترمیمی بل پر بی جے پی کو گھیرا، گنائیں پانچ اہم خامیاں

جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ 428 صفحات پر مشتمل رپورٹ کو بغیر تفصیلی بحث کے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) میں زبردستی پاس کیا گیا، جو پارلیمانی طریقہ کار کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ بل بنیادی طور پر ہندوستان کے آئین پر حملہ ہے‘‘۔

کانگریس جنرل سکریٹری جے رام رمیش

نئی دہلی: کانگریس پارٹی کے سینئر لیڈر، راجیہ سبھا ایم پی اور جنرل سکریٹری (Communication) جے رام رمیش نے وقف (ترمیمی) بل 2024 کو لے کر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر سخت حملہ کیا ہے۔ انہوں نے اس بل کو اقلیتی برادریوں کے خلاف بی جے پی کی ’’حکمت عملی‘‘ کا حصہ قرار دیتے ہوئے اسے آئین اور سماجی ہم آہنگی پر حملہ قرار دیا۔

جے رام رمیش نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ بل ہندوستان کے کثیر مذہبی معاشرے میں ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے، اقلیتوں کو بدنام کرنے اور آئینی حقوق کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی اس بل کے ذریعہ سماج کو پولرائز کرکے انتخابی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد اقلیتی برادری کی روایات اور اداروں کو بدنام کرنا بھی ہے، تاکہ معاشرے کو انتخابی فوائد کے لیے مستقل پولرائزیشن کی حالت میں رکھا جاسکے۔

کانگریس لیڈر نے بل کو ’سنگین طور پر عیب دار‘ قرار دیتے ہوئے پانچ بڑی خامیوں کی نشان دہی کرائی۔  پہلا، وقف مینجمنٹ کے اداروں جیسے قومی کونسل، ریاستی بورڈز اور ٹربیونلز کے اختیارات کو محدود کیا جا رہا ہے، تاکہ اقلیتی برادری کو ان کی مذہبی روایات اور مذہبی اداروں پر انتظامی حقوق سے محروم کیا جا سکے۔

دوسرا، وقف کی وضاحت کو جان بوجھ مبہم رکھا گیا ہے۔ اپنی زمین کو کون وقف مقاصد کے لیے عطیہ کر سکتا ہے، یہ واضح نہیں ہے۔ تیسرا، ملک کی عدلیہ کی طرف سے ایک طویل بلاتعطل چلی آ رہی روایت کی بنیاد پر تیار کردہ ”وقف بائی یوزر“ کا تصور ختم کیا جا رہا ہے۔

چوتھا، وقف انتظامیہ کو کمزور کرنے اور تجاوزات کو بڑھاوا دینے کے لیے دفعات شامل کی گئی ہیں۔ ساتھ ہی، وقف اراضی پر تجاوزات کرنے والوں کو بچانے کے لیے اب قانون میں مزید حفاظتی تدابیر کیے جا رہے ہیں۔

پانچواں، کلکٹرس اور ریاستی حکومت کے عہدیداروں کو وقف املاک پر یکطرفہ فیصلے لینے کے وسیع اختیارات دیئے گئے ہیں۔ ریاستی حکومت کے افسران کو اب یہ اختیار ہوگا کہ وہ کسی کی شکایت پر یا محض اس الزام پر کہ وقف کی جائیداد سرکاری ملکیت ہے، حتمی فیصلہ ہونے تک کسی بھی وقف کی تسلیم کو منسوخ کرنے کا حق ہو گا۔

جے رام رمیش نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ 428 صفحات پر مشتمل رپورٹ کو بغیر تفصیلی بحث کے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) میں زبردستی پاس کیا گیا، جو پارلیمانی طریقہ کار کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ بل بنیادی طور پر ہندوستان کے آئین پر حملہ ہے‘‘۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔